کیا ‘ہنٹا وائرس’ کووِڈ-19 کی طرح پوری دنیا میں پھیل سکتا ہے؟تشویشناک خبر آگئی

حالیہ برسوں میں متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ نے دنیا بھر میں صحت سے متعلق تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ جب بھی کسی نئے وائرس کا نام سامنے آتا ہے تو ذہن میں پہلا سوال یہی آتا ہے کہ آیا یہ کووڈ-19 کی طرح خطرناک ثابت ہوگا یا نہیں۔ ہنٹا وائرس بھی ایک ایسا ہی وائرس ہے جس کے بارے میں لوگوں میں مختلف خدشات پائے جا رہے ہیں۔

یہ سوال اہم ہے کہ کیا ہنٹا وائرس بھی کووڈ-19 کی طرح تیزی سے پھیل سکتا ہے؟ اس وائرس کی حقیقت، اس کے پھیلاؤ کے طریقہ کار اور احتیاطی تدابیر کو سمجھنا ضروری ہے۔

بحری جہاز پر ہنٹا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دیکھی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے عالمی ادارۂ صحت اور مرکز برائے انسدادِ امراض کے مطابق ہنٹا وائرس بنیادی طور پر ایک زونوٹک بیماری ہے، یعنی یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے، عام حالات میں انسان سے انسان میں منتقل نہیں ہوتی۔ اسی لیے ہنٹا وائرس میں کووڈ-19 جیسی تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت موجود نہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کی ڈائریکٹر ماریہ وان کرخوو نے واضح کیا ہے کہ یہ کووڈ جیسی کسی نئی عالمی وبا کا آغاز نہیں ہے۔ ادارے کے مطابق عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس وائرس کا پھیلاؤ انسانی رابطوں پر منحصر نہیں۔

ہنٹا وائرس بنیادی طور پر چوہوں، گلہریوں اور جنگلی چوہوں کے ذریعے پھیلتا ہے۔ جب ان جانوروں کا فضلہ، پیشاب یا تھوک ماحول میں موجود ہو تو وائرس فعال رہ سکتا ہے۔

اس وائرس کے پھیلنے کا سب سے عام طریقہ یہ ہے کہ چوہوں کا خشک فضلہ ہوا میں شامل ہو جاتا ہے اور انسان آلودہ ہوا میں سانس لینے سے وائرس کو پھیپھڑوں تک منتقل کر لیتے ہیں۔

کووڈ-19 ایک انتہائی متعدی وائرس تھا جو کھانسنے، چھینکنے اور ہوا میں موجود قطروں کے ذریعے تیزی سے پھیلتا تھا، جبکہ ہنٹا وائرس کا انسان سے انسان میں منتقل ہونا انتہائی نایاب سمجھا جاتا ہے۔ صرف جنوبی امریکا میں پائے جانے والے “اینڈیز وائرس” میں چند ایسے کیسز رپورٹ ہوئے جہاں قریبی جسمانی تعلق کے ذریعے منتقلی دیکھی گئی، تاہم یہ وائرس عالمی وبا بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

اگرچہ ہنٹا وائرس کووڈ کی طرح تیزی سے نہیں پھیلتا، لیکن اس کی شدت کافی زیادہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس وائرس کی شرح اموات تقریباً 38 سے 40 فیصد تک ہو سکتی ہے، جو کووڈ-19 کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس کی ابتدائی علامات میں تیز بخار، پٹھوں میں درد اور شدید تھکاوٹ شامل ہیں، جو بعد میں سانس لینے میں دشواری میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔

چونکہ یہ وائرس چوہوں سے منسلک ہے، اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا سب سے مؤثر طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ گھروں، گوداموں اور اسٹور رومز میں چوہوں کی موجودگی ختم کرنا ضروری ہے جبکہ کھانے پینے کی اشیا محفوظ برتنوں میں رکھنی چاہئیں۔

ایسی جگہوں پر جہاں چوہوں کی موجودگی کا شبہ ہو، خشک جھاڑو دینے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے آلودہ ذرات ہوا میں پھیل سکتے ہیں۔ صفائی سے پہلے جراثیم کش محلول کا اسپرے کرنا بہتر ہوتا ہے تاکہ دھول اور آلودگی نہ پھیلے۔

اسی طرح بند جگہوں یا پرانے گوداموں کی صفائی کے دوران ماسک اور دستانوں کا استعمال ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ کسی بھی بند جگہ کو استعمال کرنے سے پہلے اسے اچھی طرح ہوا دار بنانا بھی اہم ہے تاکہ ممکنہ آلودہ ہوا باہر نکل سکے۔

ماہرین کے مطابق ہنٹا وائرس کوئی نیا وائرس نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے موجود ہے۔ اگرچہ اس کی شرح اموات زیادہ ہے، لیکن اس کے محدود پھیلاؤ کے باعث اسے کووڈ-19 جیسی عالمی وبا قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عالمی ادارۂ صحت اس وائرس کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحول کو صاف ستھرا رکھنے اور چوہوں جیسے موذی جانوروں سے دور رہنے کے ذریعے اس وائرس سے مؤثر طور پر بچاؤ ممکن ہے۔ آگاہی کو ہی کسی بھی بیماری کے خلاف پہلا دفاع قرار دیا جا رہا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close