امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات اور دھمکیوں کے باوجود پینٹاگون نے کانگریس کو آبنائے ہرمز کی ممکنہ صورتحال سے متعلق اہم حقائق سے آگاہ کر دیا ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے ہاؤس آرمڈ سروس کمیٹی کو دی جانے والی بریفنگ میں انکشاف کیا کہ اگر امریکا کو آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے عسکری آپریشن کرنا پڑا تو یہ عمل فوری طور پر ممکن نہیں ہوگا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایران کی جانب سے سمندری حدود میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی صفائی ایک پیچیدہ اور وقت طلب مرحلہ ہے، جسے مکمل کرنے میں کم از کم چھ ماہ کا عرصہ درکار ہوگا۔
حکام کے مطابق اس دوران سمندری راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر مائن کلیئرنس آپریشن کرنا ہوگا۔
پینٹاگون نے واضح کیا کہ بارودی سرنگوں کی مؤثر صفائی کے لیے جنگ بندی ناگزیر ہوگی، کیونکہ فعال جنگی ماحول میں اس نوعیت کی کارروائیاں نہایت خطرناک اور محدود ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے کانگریس کو بتایا کہ اگرچہ امریکا آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے پرعزم ہے، تاہم زمینی حقائق اور تکنیکی چیلنجز کے باعث فوری نتائج حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






