مذاکرات ہی خطے کے مسائل کا واحد حل، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پرعملدرآمد کیلئے سرگرم ، دفتر خارجہ

اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان خلیج، بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں، جبکہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی مذاکرات کی بحالی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور معمول کے حالات کی بحالی کے لیے تمام متعلقہ فریقوں سے رابطے میں ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی کوشش ہے کہ فریقین اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور 22 جون 2026 کے پاکستان قطر مشترکہ اعلامیے کی روح کے مطابق دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔

ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حالیہ دنوں میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا، جس میں فلسطین، غزہ، مغربی کنارے، مسجد اقصیٰ اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی امن، استحکام اور بحیرہ احمر و آبنائے ہرمز میں قانونی بحری تجارت کے تسلسل کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتا ہے اور خطے میں جنگ یا کشیدگی کے پھیلاؤ کا مخالف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کسی دوسرے ملک تک نہیں بڑھنا چاہیے۔

کویت کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ یہ معاہدہ 2023 میں طے پایا تھا اور پاکستان و کویت کے درمیان 1980 کی دہائی سے جاری دفاعی تعاون کا تسلسل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ موجود اسٹریٹیجک دفاعی تعاون سے مختلف نوعیت کا ہے اور پاکستان اپنے تمام دفاعی معاہدوں کے تحت ذمہ داریاں پوری کرے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک دستاویزی فلم کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں یکطرفہ اور غیر مصدقہ معلومات پیش کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنے جوہری کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم پر مکمل اعتماد ہے، جو بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق محفوظ اور مؤثر ہے۔

بھارتی وزیر دفاع کے کارگل سے متعلق حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضے کو معمول کا معاملہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصوابِ رائے ہی مسئلہ کشمیر کا تسلیم شدہ حل ہے۔

افغانستان سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی کارروائیاں صرف دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق طالبان جنگجو وردی نہیں پہنتے، اس لیے زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے لگائے جانے والے الزامات درست نہیں۔ بدخشاں میں طالبان مخالف مزاحمت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ان کے پاس کوئی مصدقہ معلومات نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے سکھ یاتریوں کو بڑی تعداد میں ویزے جاری کیے ہیں، جبکہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات معمول کا جمہوری عمل ہیں اور اس حوالے سے بین الاقوامی برادری کی جانب سے دفتر خارجہ کے سامنے کوئی باضابطہ تحفظات نہیں رکھے گئے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کو آزاد جموں و کشمیر کے معاملات پر تبصرہ نہیں کرنا چاہیے، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا ہے، جبکہ بھارت اس حق کی مخالفت کرتا ہے اور یہی دونوں ممالک کے مؤقف میں بنیادی فرق ہے۔