امریکا کے ایران پر دوبارہ فضائی حملے، 3 افراد جاں بحق، بحری ناکہ بندی سخت

ایران کے جزیرے قشم میں ایک رہائشی عمارت پر حملے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جہاں ملبے سے ایک اور بچے کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق حملے میں 3 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق قشم جزیرے میں متاثرہ عمارت کے ملبے سے تیسرے بچے کو بھی بحفاظت نکال لیا گیا، جبکہ امدادی ٹیمیں اب بھی ملبہ ہٹانے اور مزید افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ عمارت میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد رہائش پذیر تھے۔

رپورٹس کے مطابق زخمی ہونے والے دو بچوں کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ہرمزگان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے حوالے سے بتایا گیا کہ جاں بحق افراد میں ایک میاں بیوی اور ان کا دو سالہ بچہ شامل ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق قشم جزیرے کے رہائشی علاقے میں حملے کے بعد ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ مقامی میڈیا نے علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کی بھی اطلاع دی۔

دوسری جانب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں مشرق وسطیٰ میں امریکی اہلکاروں اور مفادات پر حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔

امریکی فوج کے مطابق بحری نگرانی اور ناکہ بندی کے اقدامات بھی سخت کیے گئے ہیں، جبکہ متعدد تجارتی جہازوں کے راستے تبدیل کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے کیونکہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی حکمت عملی کے حوالے سے فوجی قیادت میں مختلف آرا بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ خطے میں ممکنہ مزید کارروائیوں کے خدشات برقرار ہیں۔

ایران نے بھی امریکی اقدامات کے جواب میں خطے میں موجود امریکی اہداف اور بحری راستوں سے متعلق اپنے مؤقف کا اظہار کیا ہے۔ موجودہ صورتحال کے باعث مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور عالمی برادری کی نظریں آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔