سعودی عرب کا بحیرہ احمر میں حوثی ملیشیا کے خلاف بین الاقوامی اتحاد بنانے کا فیصلہ

سعودی عرب بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر عالمی بحری تجارت کے تحفظ کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اتحاد میں شامل ممالک کی حتمی فہرست ابھی طے نہیں ہوئی، تاہم اس حوالے سے متعدد ممالک سے مشاورت جاری ہے۔ بحیرہ احمر میں کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی تجارت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر بحیرہ احمر کے راستے بھی غیر محفوظ ہو گئے تو توانائی اور دیگر اہم اشیا کی عالمی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

رپورٹس کے مطابق یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں سعودی جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جس کے جواب میں سعودی عرب نے یمن کی بندرگاہ حدیدہ میں حوثیوں کے مبینہ فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

بحیرہ احمر کی صورتحال نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے بھی ایک نیا چیلنج پیدا کر دیا ہے، کیونکہ خطے میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات مزید پھیلنے کا خدشہ ہے۔ تیل اور دیگر سامان لے جانے والے بحری جہازوں کو درپیش خطرات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

خلیجی ممالک خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کو قطر، کویت اور بحرین کے وزرائے خارجہ کی جانب سے رابطے موصول ہوئے، جن میں کشیدگی کم کرنے اور مشترکہ تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔

یمن کی حکومت کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے حوثیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بحیرہ احمر اور باب المندب سے گزرنے والے جہازوں پر اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم حوثیوں کی جانب سے اس الزام پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطوں کے ذریعے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔