آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں 52 روز بعد انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی ہے۔
انٹرنیٹ سروس 5 جون کو جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد معطل کی گئی تھی۔ یہ کمیٹی 2023 سے مختلف مطالبات کے لیے احتجاجی تحریک چلا رہی تھی، جن میں آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت دیگر امور شامل تھے۔
حکومت نے کمیٹی کے بیشتر مطالبات 2024 میں منظور کر لیے تھے، تاہم باقی مطالبات پر عملدرآمد نہ ہونے کے الزام کے بعد کمیٹی نے اکتوبر 2025 کے معاہدے پر عملدرآمد کے لیے احتجاج کا اعلان کیا تھا۔
حکام کے مطابق امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی تھی۔ سروس کی بحالی کا آغاز میرپور ڈویژن سے ہوا، جہاں آزاد کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے سے قبل 23 جولائی کو انٹرنیٹ بحال کر دیا گیا تھا۔
مظفرآباد ڈویژن میں بھی دوسرے مرحلے کے انتخابات سے تین روز قبل انٹرنیٹ سروس بحال کر دی گئی ہے۔ یہ ڈویژن مظفرآباد، نیلم اور ہٹیاں بالا کے اضلاع پر مشتمل ہے، جہاں 9 انتخابی حلقوں میں پولنگ ہونی ہے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں میں سے مسلم لیگ (ن) نے 9 جبکہ پیپلز پارٹی نے 4 نشستیں حاصل کیں۔ تاہم نتائج پر دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہیں، جہاں پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) پر انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔






