کورین بینڈ ‘بی ٹی ایس’ نے گریمی ایوارڈز کا بائیکاٹ کیوں کیا؟اہم تفصیلات سامنے آ گئیں

عالمی شہرت یافتہ جنوبی کورین میوزک بینڈ بی ٹی ایس نے آئندہ سال ہونے والے گریمی ایوارڈز کے لیے اپنا کوئی بھی گانا جمع نہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ گریمی انتظامیہ کی جانب سے 2027 کی تقریب میں ایشیائی پاپ موسیقی کے لیے الگ کیٹیگری متعارف کرانے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

بی ٹی ایس کے ساتوں اراکین نے مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ اس سال گریمی ایوارڈز کے لیے اپنی موسیقی پیش نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ موسیقی کو زبان یا علاقے کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے بجائے اس کی اصل روح اور فن کی بنیاد پر سراہا جانا چاہیے۔

2010 میں قائم ہونے والے بی ٹی ایس نے گزشتہ برسوں میں دنیا بھر میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی اور کئی عالمی اعزازات اپنے نام کیے۔ بینڈ نے 2017 سے 2021 تک مسلسل پانچ مرتبہ بل بورڈ میوزک ایوارڈز میں “ٹاپ سوشل آرٹسٹ” کا اعزاز حاصل کیا، جبکہ امریکن میوزک ایوارڈز میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔

بی ٹی ایس کی کوریائی زبان میں بنائی گئی موسیقی دنیا بھر میں مقبول ہے۔ گروپ کا حالیہ البم “اری رنگ” بھی عالمی سطح پر کامیاب رہا، جس نے کئی ممالک کے میوزک چارٹس پر نمایاں پوزیشن حاصل کی۔

بی ٹی ایس کے فیصلے کو مداحوں کی جانب سے بھرپور حمایت مل رہی ہے۔ کچھ مداحوں کا مؤقف ہے کہ ایشیائی پاپ موسیقی کے لیے الگ کیٹیگری متعارف کرانے سے فنکاروں کو بڑے اور مرکزی ایوارڈز میں مقابلے کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب گریمی ایوارڈز کے قواعد کے مطابق ایک گانا ایک ہی سال میں صرف ایک پرفارمنس کیٹیگری میں شامل کیا جا سکتا ہے، جس کے باعث ایشیائی پاپ کی نئی کیٹیگری میں شرکت کرنے سے دیگر اہم کیٹیگریز میں نامزدگی کے امکانات متاثر ہو سکتے تھے۔

واضح رہے کہ بی ٹی ایس نے چار سال کے وقفے کے بعد رواں سال دوبارہ میوزک انڈسٹری میں واپسی کی تھی۔ بینڈ کے تمام اراکین جنوبی کوریا کی لازمی فوجی سروس مکمل کرنے کے بعد دوبارہ اکٹھے ہوئے، جس کا دنیا بھر میں موجود مداحوں کو طویل انتظار تھا۔