اسلام آباد (آئی این پی): نے کہا ہے کہ خطے میں حالیہ بحران نے نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کو متاثر کیا، پاکستان نے امن کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کیا اور ایران و امریکا کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں ثالث کی ذمہ داری نبھائی، جبکہ اس مصالحتی عمل میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک کوششیں تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
اسلام آباد میں پاکستان اور چین کی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی بزنس ٹو بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان 44 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے 9 معاہدے طے پائے ہیں، جو فارماسیوٹیکل صنعت، ویکسین سازی، بائیو ٹیکنالوجی اور ریسرچ کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کا سب سے قابل اعتماد اور آزمودہ دوست ہے، جس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا اور عالمی فورمز پر بھی بھرپور حمایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، جبکہ چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کیا، جس میں چین سمیت دوست ممالک نے بھرپور تعاون کیا۔ انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند، شہد سے میٹھی اور فولاد سے زیادہ مضبوط ہے، جبکہ پاکستان میں موجود چینی شہریوں کی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بزنس کانفرنس وزیراعظم کے وژن کا نتیجہ ہے اور ان کی قیادت میں پاکستان کی فارماسیوٹیکل صنعت کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بزنس ٹو بزنس تعاون کا مؤثر ماڈل متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی 29 ادویات پہلے ہی چینی مارکیٹ تک رسائی حاصل کر چکی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
کانفرنس کے دوران پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان 44 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے 9 معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری، بائیو ٹیکنالوجی، ادویات سازی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، ہیپاٹائٹس سے بچاؤ اور حفاظتی ٹیکوں کے قومی پروگرام سے متعلق تعاون شامل ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






