اسلام آباد (آئی این پی): وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں لائیوسٹاک کے شعبے میں بے پناہ استعداد موجود ہے، تاہم اس کی ترقی کے لیے جدید ٹیکنالوجی، مؤثر منصوبہ بندی اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
وفاقی دارالحکومت میں لائیوسٹاک کی استعداد سے متعلق قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ گرین کارپوریٹ لائیوسٹاک انیشیٹو کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں اور اس شعبے کی ترقی کے لیے وفاق اور صوبوں کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اب صرف دعووں کا وقت نہیں بلکہ عملی اقدامات کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے، جبکہ کسان اپنی محنت سے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی کمی کے باعث پاکستان لائیوسٹاک کے شعبے میں خطے کے کئی ممالک سے پیچھے ہے، حالانکہ ملک دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے اس شعبے میں نمایاں ترقی ممکن ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ چین پاکستان کا قابلِ اعتماد دوست ہے اور زرعی شعبے میں تعاون کے فروغ کے لیے پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کی اصلاحات سے متعلق چین کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر زراعت اور لائیوسٹاک کے شعبوں میں محنت اور منصوبہ بندی کے ساتھ کام کیا جائے تو ایک سال کے اندر معیشت میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ماضی میں میرٹ کو نظر انداز کر کے سفارشی افراد کو بیرون ملک بھیجا جاتا تھا، تاہم اب نظام تبدیل کر دیا گیا ہے۔ نوجوانوں کی تربیت کے لیے شفاف طریقہ کار اپنایا گیا ہے اور ان کی صلاحیتوں کا تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے ذریعے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کے مطابق میرٹ کی بنیاد پر ایک ہزار زرعی گریجویٹس کو تربیت کے لیے چین بھیجا جا چکا ہے، جبکہ مزید ایک ہزار نوجوانوں کو بھی جلد چین بھیجا جائے گا تاکہ جدید زرعی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان کی زراعت اور لائیوسٹاک کے شعبے میں انقلاب لایا جا سکے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






