دفتر خارجہ: ایران اور امریکا کے درمیان امن کوششیں جاری، پاکستان ثالثی سے دستبردار نہیں ہوا
پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ اسلام آباد ایران اور امریکا کے درمیان امن کوششوں سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ اگرچہ موجودہ صورتحال میں کشیدگی غالب ہے، تاہم امن اور مذاکرات کی کوششیں مسلسل جاری ہیں اور بالآخر یہی راستہ کامیاب ہوگا۔ ان کے مطابق امن کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا، البتہ وقتی طور پر تعطل کا شکار ہوسکتا ہے۔
پریس بریفنگ میں ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت آج بھی مؤثر اور قابلِ عمل فریم ورک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب فریقین کشیدگی کا راستہ ترک کریں گے تو امن کی بحالی اسی مفاہمتی یادداشت کے ذریعے ممکن ہوگی، کیونکہ یہ نہ ختم ہوئی ہے اور نہ ہی اپنی افادیت کھو چکی ہے۔
طاہر اندرابی نے واضح کیا کہ 27 فروری کو اختیار کیا گیا پاکستان کا مؤقف آج بھی برقرار ہے۔ پاکستان نے ہر قسم کے مسلح حملوں کی مذمت کی ہے اور ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق تنازع کے ہر مرحلے میں پاکستان کا مستقل مؤقف یہی رہا ہے کہ اختلافات کا واحد حل مذاکرات اور سفارتکاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امن کے لیے بنیادی فریم ورک فراہم کرتی ہے، جبکہ 22 جون کو پاکستان اور قطر کے مشترکہ اعلامیے میں اس پر عمل درآمد کا روڈ میپ موجود ہے۔ ترجمان نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ اسی اعلامیے کے مطابق تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔
ترجمان کے مطابق موجودہ کشیدگی سے توانائی، تجارت اور غذائی تحفظ سمیت متعدد شعبے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں جلد معمول کی صورتحال کی بحالی، جہازرانی کی آزادی اور سمندری سلامتی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس اہم بحری راستے سے تجارت اور پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو ضروری سمجھتا ہے۔
طاہر اندرابی نے ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور تمام فریقوں سے ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتا ہے۔ ان کے مطابق تنازع کسی کے مفاد میں نہیں، اس لیے پاکستان جنگ سے گریز، کشیدگی میں کمی اور پرامن حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان خطے کے اہم ممالک سے مسلسل رابطے میں ہے۔ 10 جولائی کو وزیراعظم نے امیرِ قطر سے ٹیلیفون پر گفتگو میں خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا، قطر سے یکجہتی کا اعادہ کیا اور تمام فریقوں پر تحمل اختیار کرنے پر زور دیا۔ اس موقع پر سفارتی رابطوں، مذاکرات اور باہمی وعدوں پر عمل درآمد کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا، جبکہ امیرِ قطر نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔
اسی روز وزیراعظم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں خطے میں امن و استحکام کی فوری بحالی پر زور دیا گیا۔ وزیراعظم نے ایران سمیت تمام متعلقہ فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کی اپیل کی۔
پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور ان میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کا مقصد دوطرفہ تجارت میں اضافہ، پاکستانی برآمدات کو مزید متنوع بنانا اور باہمی اختلافات کو کم کرتے ہوئے مشترکہ مفادات پر اتفاق رائے کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کے تمام ذرائع کھلے ہیں اور مذاکرات کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






