اے ڈی بی نے ترقی پذیر ایشیا کی معاشی ترقی کی پیش گوئی کم کر دی، توانائی بحران اور مہنگائی بڑے خطرات قرار
اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے ترقی پذیر ایشیا اور بحرالکاہل کی معیشتوں کے لیے 2026 کی اقتصادی ترقی کی پیش گوئی کم کرتے ہوئے شرح نمو 4.9 فیصد کر دی ہے، جبکہ 2025 میں یہ شرح 5.5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ جولائی 2026 میں جاری ہونے والے ایشین ڈویلپمنٹ آؤٹ لک کے مطابق نئی پیش گوئی اپریل میں جاری کیے گئے تخمینے کے مقابلے میں 0.2 فیصد پوائنٹس کم ہے، جس کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں میں پیدا ہونے والی طویل رکاوٹیں اور ان کے معاشی اثرات ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال نے عالمی سطح پر تیل اور توانائی کی سپلائی کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں ترقی پذیر ایشیا اور بحرالکاہل کی معیشتوں کو توقعات سے زیادہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اے ڈی بی نے 2027 کے لیے اقتصادی ترقی کی پیش گوئی 5.1 فیصد پر برقرار رکھی ہے، کیونکہ بینک کو توقع ہے کہ اگر توانائی کی منڈیوں میں استحکام بحال ہوتا ہے تو خطے میں معاشی سرگرمیوں میں بتدریج بہتری آئے گی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جون میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے باوجود عالمی توانائی کی منڈیوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں فوری طور پر ختم ہونے کا امکان نہیں، بلکہ ان کے اثرات بتدریج کم ہوں گے۔ توانائی کے ساتھ ساتھ کھاد، دیگر بنیادی اشیائے خام اور عالمی سپلائی چینز بھی اس صورتحال سے متاثر رہی ہیں، جس کے باعث مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
اے ڈی بی کے مطابق 2026 کے دوران خطے میں مہنگائی کی اوسط شرح 4.3 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ 2025 میں یہ شرح 3 فیصد تھی۔ اپریل میں جاری کیے گئے تخمینے کے مقابلے میں مہنگائی کی نئی پیش گوئی 0.7 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے، جبکہ 2027 کے لیے مہنگائی کا تخمینہ 3.4 فیصد پر برقرار رکھا گیا ہے۔
اے ڈی بی کے چیف اکانومسٹ البرٹ پارک کا کہنا ہے کہ اگر فریم ورک معاہدے پر مؤثر اور پائیدار عمل درآمد ہوتا ہے تو عالمی توانائی کی منڈیوں میں معمول کی صورتحال بحال ہونے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس عمل کی رفتار غیر یقینی ہے اور اس کے ساتھ متعدد منفی خطرات بھی موجود ہیں، جو خطے کی معاشی بحالی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ایشیا اور بحرالکاہل کی معیشتیں مجموعی طور پر اب بھی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں، تاہم مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے پیدا ہونے والے مسلسل دباؤ کے باعث حکومتوں کو معاشی ترقی کو برقرار رکھنے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے متوازن اور محتاط معاشی پالیسیاں اختیار کرنا ہوں گی۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کا تنازع دوبارہ شدت اختیار کرتا ہے یا جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال برقرار رہتی ہے تو عالمی توانائی کی منڈیاں مزید متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ، سرمایہ کاری کے خطرات کی لاگت میں اضافہ، مہنگائی میں تیزی اور بیرونی مالی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے، جس سے خطے کی معاشی کارکردگی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔
اے ڈی بی نے اپنی رپورٹ میں عالمی مالیاتی حالات میں سختی، خودمختار بانڈز کی بڑھتی ہوئی شرحِ منافع، قرض لینے کی لاگت میں اضافے، متعدد معیشتوں میں مالیاتی خسارے، بلند درآمدی ٹیرف، تجارتی پالیسیوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو بھی خطے کی معیشت، زرعی پیداوار اور غذائی تحفظ کے لیے اہم خطرات قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2026 کے لیے ترقی پذیر مشرقی ایشیا کے علاوہ خطے کے بیشتر ذیلی حصوں کی اقتصادی ترقی کے تخمینے کم کر دیے گئے ہیں۔ تاہم چین کے لیے 2026 اور 2027 کی شرح نمو کے تخمینے بالترتیب 4.6 فیصد اور 4.5 فیصد پر برقرار رکھے گئے ہیں، جس کی وجہ مضبوط برآمدات اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں جاری سرمایہ کاری کو قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب بھارت کے لیے 2026 کی اقتصادی ترقی کی پیش گوئی کم کرکے 6.6 فیصد کر دی گئی ہے، کیونکہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ملکی طلب اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے، تاہم 2027 کے لیے 7.3 فیصد شرح نمو کی پیش گوئی برقرار رکھی گئی ہے۔
اسی طرح جنوب مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل کے لیے بھی شرح نمو کے تخمینے کم کیے گئے ہیں۔ اے ڈی بی کے مطابق کمزور داخلی طلب، سیاحت کے شعبے میں سست روی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، درآمدی لاگت میں اضافہ اور عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال ان خطوں کی معاشی ترقی کے لیے اہم چیلنجز بنے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خطے کے ممالک کو موجودہ معاشی خطرات سے نمٹنے، مہنگائی پر قابو پانے اور پائیدار اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اور متوازن پالیسی اقدامات اختیار کرنا ہوں گے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






