مصنوعی ذہانت کروڑوں نوکریاں ہڑپ کر جائے گی، اے آئی کے گاڈ فادر

ٹورنٹو: مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے باعث ملازمتوں کے مستقبل پر بحث میں شدت کے دوران کمپیوٹر سائنسدان اور ’’اے آئی کے گاڈ فادر‘‘ جیفری ہنٹن نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر بیروزگاری پیدا ہوسکتی ہے اور کروڑوں افراد روزگار سے محروم ہوسکتے ہیں۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے جیفری ہنٹن نے کہا کہ کمپنیوں کی جانب سے ڈیٹا سینٹرز، چپس اور دیگر اے آئی انفرااسٹرکچر میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جارہی ہے تاکہ آٹومیشن کو بہتر بنایا جاسکے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری پر منافع حاصل کرنے کے لیے ایسے اے آئی سسٹمز فروخت کیے جائیں گے جو کم لاگت میں وہ کام انجام دے سکیں گے جو اس وقت انسانی کارکن کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ منافع کے حصول کی خواہش کے باعث اے آئی ٹولز ملازمین کا متبادل بن سکتے ہیں۔ اگرچہ اے آئی سے نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی، تاہم ممکن ہے کہ ان کی تعداد ان افراد سے کم ہو جو اپنی ملازمتوں سے محروم ہوجائیں گے۔

جیفری ہنٹن نے اعتراف کیا کہ اے آئی کے طویل المعیاد اثرات کے بارے میں پیش گوئی کرنا انتہائی مشکل ہے۔ ان کے بقول کوئی نہیں جانتا کہ اگلے 10 برسوں میں یہ ٹیکنالوجی کس شکل میں ہوگی، اس لیے مستقبل کے بارے میں یقینی اندازہ لگانا ممکن نہیں۔

اس سے قبل ٹیکنالوجی کمپنی اینوڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ بھی کہہ چکے ہیں کہ اے آئی تقریباً ہر پیشے پر اثر انداز ہوسکتی ہے اور کام کے اوقات مختصر ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس کا خیال ہے کہ وقت کے ساتھ انسان متعدد کاموں کے لیے غیر ضروری ہوسکتے ہیں، جبکہ ایلون مسک نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ دو دہائیوں میں بیشتر افراد کو روایتی ملازمت کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

جیفری ہنٹن کو مشین لرننگ اور اے آئی کے شعبے میں بنیادی کردار ادا کرنے کی وجہ سے ’’اے آئی کا گاڈ فادر‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان کے تحقیقی کام نے ایسی ٹیکنالوجیز کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا جن کے ذریعے کمپیوٹرز کو انسانی ذہانت کی نقل کرنے میں مدد ملی۔

وہ گزشتہ چند برسوں سے اے آئی کے محفوظ استعمال کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ 2023 میں انہوں نے گوگل کی ملازمت چھوڑ دی تھی اور خبردار کیا تھا کہ برے عناصر اے آئی ٹیکنالوجی کو دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

ہنٹن اس سے قبل یہ خدشہ بھی ظاہر کرچکے ہیں کہ اے آئی کے بتدریج انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہونے کا امکان موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اے آئی کے ممکنہ خطرات پر بات کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس ٹیکنالوجی کے مستقبل کے بارے میں شدید غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ اے آئی سسٹمز کو ایک کم عمر بچے سے تشبیہ دی جاسکتی ہے، تاہم بچے بہت تیزی سے بڑے ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق اے آئی کے بیشتر ماہرین سمجھتے ہیں کہ ممکنہ طور پر اگلی دو دہائیوں میں ایسے سسٹمز تیار ہوسکتے ہیں جو انسانوں سے زیادہ ذہین ہوں۔

جیفری ہنٹن کے مطابق اے آئی کے دنیا پر اثرات صنعتی انقلاب جیسے ہوسکتے ہیں۔ صنعتی انقلاب نے انسانی جسمانی طاقت کی اہمیت کم کردی تھی کیونکہ انسان زیادہ طاقتور مشینوں پر انحصار کرنے لگا تھا، جبکہ اے آئی انسانی ذہانت کے دائرے کو بھی چیلنج کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے آئی کے اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دنیا کے سیاسی نظام اس ٹیکنالوجی کو کس طرح منظم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اے آئی طبی شعبے سمیت تقریباً ہر صنعت میں حیرت انگیز فوائد پیدا کرسکتی ہے، تاہم اس کی تیز رفتار پیش رفت کے دوران زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔