نیویارک (آئی این پی): ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے مالک اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں غیر معمولی رفتار سے ترقی ہو رہی ہے اور آئندہ پانچ برسوں میں یہ تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت سے آگے نکل سکتی ہے۔
ایک انٹرویو میں ایلون مسک نے کہا کہ جیسے جیسے اے آئی کی صلاحیتیں بڑھ رہی ہیں، ویسے ویسے آئندہ ایک دہائی کے دوران انسانیت کے لیے اس ٹیکنالوجی کو قابو میں رکھنا مشکل ہوتا جائے گا۔
انہوں نے پیش گوئی کی کہ اگلے پانچ برسوں میں اے آئی تقریباً ہر شعبے اور ہر قسم کے کام میں انسانوں سے بہتر کارکردگی دکھانے کے قابل ہو جائے گی۔
ایلون مسک نے کہا کہ اگرچہ اس ٹیکنالوجی سے وابستہ خطرات حقیقی ہیں، تاہم یہی اے آئی دنیا میں بے مثال خوشحالی، وسائل کی فراوانی اور نئے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں عالمی تنازعات کے خاتمے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ دہائی میں انتہائی جدید اے آئی سسٹمز پر انسانوں کا مکمل کنٹرول برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے، اس لیے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے ابھی سے تیاری ضروری ہے۔
ایلون مسک نے تجویز دی کہ بڑی اے آئی کمپنیاں باقاعدگی سے ایک دوسرے کے ساتھ حفاظتی اور سکیورٹی امور پر مشاورت کریں اور صرف حکومتی قوانین پر انحصار نہ کریں۔ ان کے مطابق اے آئی ماڈلز کو عوام کے لیے جاری کرنے سے پہلے دیگر کمپنیوں سے ان کا حفاظتی جائزہ بھی لیا جانا چاہیے تاکہ ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے پیش نظر بڑی اے آئی کمپنیوں کے درمیان تعاون اور رابطہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






