پاکستان میں درآمدی موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکس میں کمی ہوگی یا نہیں؟ حقیقت سامنے آگئی

پاکستان میں درآمد شدہ موبائل فونز پر عائد پی ٹی اے ٹیکس اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں ممکنہ کمی سے متعلق مختلف دعووں کے بعد صورتحال واضح ہونا شروع ہوگئی ہے، تاہم فی الحال ٹیکس کے مکمل خاتمے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

 

قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قاسم گیلانی کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ موبائل فونز کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے، تاہم حکومتی اور پارلیمانی ذرائع کے مطابق اس کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی۔

 

پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے ارکان کے مطابق موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکس کے مکمل خاتمے پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا، بلکہ صرف بعض سلیبز میں رعایت پر غور کیا گیا ہے۔

 

قائمہ کمیٹی کے رکن ارشد وہرہ نے بتایا کہ اجلاس میں 201 ڈالر سے زائد قیمت والے موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی پر بات ہوئی ہے۔ ان کے مطابق مختلف سلیبز کے تحت ٹیکس میں جزوی ریلیف دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔

 

اسی طرح رکن کمیٹی مرزا اختیار بیگ نے بھی واضح کیا کہ موبائل فونز پر ٹیکس کا مکمل خاتمہ زیر غور نہیں، بلکہ 201 سے 350 ڈالر کے درمیان آنے والے فونز پر ڈیوٹی میں کمی کی سفارشات تیار کی جا رہی ہیں، جو حتمی منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کی جائیں گی۔

ذرائع کے مطابق مالیاتی بل 2026-27 میں ایک نئی شق شامل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس کے تحت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو پی ٹی اے ٹیکس کی ادائیگی کے لیے اقساط پر مبنی سہولت فراہم کرنے کے قواعد بنانے کا اختیار دیا جا سکتا ہے۔

 

پاکستان میں درآمد شدہ موبائل فونز پر اس وقت ڈیوائس ویلیو کے مطابق مختلف سلیبز کے تحت ریگولیٹری ڈیوٹی اور 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے، جس کے باعث صارفین کو فون رجسٹریشن کے لیے بھاری ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں۔

 

ٹیکس ماہرین کے مطابق پاکستان میں موبائل فونز پر ٹیکس پالیسی وقت کے ساتھ متعدد تبدیلیوں سے گزری ہے، اور مقامی اسمبلنگ کے باوجود درآمدی فونز پر انحصار اور ٹیکس بوجھ اب بھی برقرار ہے۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ پالیسی میں تسلسل کی کمی اور بار بار تبدیلیاں اس شعبے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرتی ہیں، جس سے صارفین اور مارکیٹ دونوں متاثر ہوتے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close