توصیف احمد اور ثقلین مشتاق شاداب کے معاملے پر آمنے سامنے آ گئے

قومی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر شاداب خان کے معاملے پر پاکستان کے سابق مایہ ناز اسپنرز توصیف احمد اور ثقلین مشتاق آمنے سامنے آگئے، دونوں نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے ہیں۔

سابق چیف سلیکٹر توصیف احمد نے سابق پاکستانی بلے باز فواد عالم کی میزبانی میں ہونے والے پوڈ کاسٹ کے دوران دعویٰ کیا کہ سابق کوچ ثقلین مشتاق اپنے داماد شاداب خان کو ٹیم میں کھلانے کے لیے ان پر زور دیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں فون پر شاداب کے معاملے میں نرمی برتنے کا کہا گیا تھا۔

توصیف احمد نے کہا کہ جب وہ سلیکٹر تھے تو ثقلین مشتاق نے کہا تھا کہ شاداب کو دیکھ لینا۔ ان کے مطابق ثقلین مشتاق کا اس حوالے سے وائس نوٹ بھی ان کے پاس موجود ہے اور وہ اسے ریکارڈ پر ثابت کرسکتے ہیں۔

توصیف احمد نے ثقلین مشتاق پر شاداب خان کے حوالے سے حد سے زیادہ حمایت کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ثقلین کو شاداب کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا، پسند ناپسند کی بھی ایک حد ہونی چاہیے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر کا مزید کہنا تھا کہ ثقلین مشتاق نے دنیا میں جاکر اسپن باؤلنگ کے بارے میں بتایا، لیکن اپنے ملک میں کیا کیا؟

توصیف احمد نے شاداب خان کی فٹنس پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ مبینہ طور پر ان فٹ ہونے کے باوجود مختلف جگہوں پر جاتے رہے اور پھر انہیں فیور بھی کیا جاتا رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف ماضی میں بہترین کرکٹ کھیلنے کی شہرت کی بنیاد پر سابق عظیم کھلاڑیوں کو کوچنگ کے مواقع نہیں ملنے چاہئیں۔ پاکستان کے بعض سابق کھلاڑی جنہوں نے اپنے دور میں کامیاب کرکٹ کھیلی، وہ کوچنگ کے شعبے میں آنے کے بعد ناکام ہوئے۔

توصیف احمد نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کو اسکواڈ کے ساتھ رہنے اور تجربہ حاصل کرنے کے مواقع ملنے چاہئیں۔ خراب کارکردگی کے بعد کسی نوجوان کھلاڑی کو ٹیم سے باہر کیوں کردیا جائے؟ سفیان کا کیا قصور ہے؟ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ اسے ہر صورت کھلاتے رہیں، لیکن اسے ٹیم کے ساتھ رکھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کم تجربہ کار کھلاڑی کو بین الاقوامی دورے پر لے جانے سے اسے اعلیٰ درجے کی کرکٹ سے روشناس ہونے کا موقع مل سکتا ہے اور اس کی صلاحیتیں زیادہ تیزی سے نکھر سکتی ہیں۔

توصیف احمد کے الزامات پر ثقلین مشتاق نے سوشل میڈیا پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے کہا ہے کہ آپ کے پاس میرا وائس میسج موجود ہے تو اسے ثابت کریں اور عوام کے سامنے جاری کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے توصیف احمد کو احترام کے ساتھ فون کیا تھا کیونکہ وہ انہیں اپنا سینئر سمجھ کر عزت دیتے تھے۔

ثقلین مشتاق نے مزید کہا کہ جھوٹ نہ بولیں، حقائق نہ چھپائیں اور نہ ہی معاملے کو توڑ مروڑ کر پیش کریں۔ ان کے مطابق ان کے پاس بھی اس معاملے کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔ اگر توصیف احمد اپنا ریکارڈ عوام کے سامنے لاتے ہیں تو وہ بھی ریکارڈ عوام کے سامنے لائیں گے۔

ثقلین مشتاق کا کہنا تھا کہ معاملے کا فیصلہ عوام پر چھوڑا جائے تاکہ وہ دونوں جانب کی بات سن کر خود حقیقت جان سکیں۔