کیا خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ تبدیل ہو رہا ہے؟

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومت کو لانگ مارچ کے حوالے سے مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری بات سنی جائے کیونکہ ہم نہیں چاہتے عوام اور قانون کے رکھوالے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں۔

پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اتنے سنجیدہ حالات میں جب بڑی سیاسی جماعت کی جانب سے لانگ مارچ ہونے جارہا ہو تو بات چیت ضرور ہونی چاہیے۔ حکومت کو کہوں گا کہ لانگ مارچ میں آنے والے سیاسی لوگوں پر نیٹ لانچر استعمال کرنے کا وقت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی لوگوں پر نیٹ لانچر استعمال نہیں کیے جاتے، ان کی بات سنی جاتی ہے اور شکایات حل کی جاتی ہیں، سیاسی لوگوں کو انصاف دیا جاتا ہے، ان کی بات غور سے سنی جاتی ہے اور انا کو ایک طرف رکھا جاتا ہے۔ یہ سارا معاملہ جنگِ انا بنا ہوا ہے، حکومت کو اپنی انا جھکانا ہوگی۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ نیٹ لانچر کا استعمال ختم کرکے کوئی راستہ نکالنا ہوگا۔ ہم نہیں چاہتے عوام اور قانون کے رکھوالے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں۔ ہم کہہ رہے ہیں ہماری بات سنی جائے، ہم پرامن ہیں اور اپنے حقوق کے لیے نکل رہے ہیں، ہم انصاف کی آواز اٹھا رہے ہیں اور بارہا کہا کہ ہمیں سنا نہیں گیا اور انصاف نہیں ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزرا جو مرضی بیانات دیں، کسی وزیر نے یہ نہیں کہا کہ ہم نے پی ٹی آئی کی بات سنی اور انصاف دیا۔ پارٹی نے اپنا پروگرام بہت پہلے اعلان کیا ہوا ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جہاں تک اعتماد کا تعلق ہے تو سہیل آفریدی ہمارے وزیراعلیٰ ہیں اور بانی پی ٹی آئی کو سہیل آفریدی پر اعتماد ہے، ان شاء اللہ وہی وزیراعلیٰ رہیں گے۔ سہیل آفریدی کو ہم سب کی حمایت حاصل ہے، یہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں غیر اعلانیہ گورنر راج ہے، ایسا بالکل نہیں ہونا چاہیے۔ صوبہ خودمختار ہوتا ہے، اس کے عوام اور مینڈیٹ، وزیراعلیٰ اور ارکان اسمبلی کا احترام ہونا چاہیے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کبھی کوئی وزیر اپنے ہی صوبے میں لاپتہ نہیں ہوتا، کبھی کوئی رکن اسمبلی سیاسی بنیادوں پر اپنے صوبے میں گرفتار نہیں ہوتا۔ سیاسی بنیادوں پر ایک دوسرے کے گریبانوں میں ہاتھ ڈالنا غلط ہے، یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ ہم بارہا باور کراچکے ہیں کہ ہم پرامن ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت کا ایک ٹولہ یہ تاثر دے رہا ہے کہ پی ٹی آئی آگے بڑھی تو اداروں اور اسلام آباد پر حملہ کرے گی۔ ہم پرامن تھے، پرامن ہیں اور پرامن رہیں گے، اداروں یا اسلام آباد پر حملہ نہیں کریں گے، لہٰذا حکومت کو اس بیانیے اور تاثر کا بندوبست کرنا ہوگا۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر حکومت ایسا تاثر پیدا کرے گی تو بڑی تعداد رکھنے والی سیاسی جماعت کو سیاسی میدان سے نکال دیا جائے گا، لیکن سیاسی جماعتوں کو سیاسی میدان سے نکالنے کے بڑے خطرناک نتائج ہوتے ہیں۔