پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث حکومت نے ملک میں ہفتے میں تین روز تعطیلات دینے کی تجویز پر غور شروع کردیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق مجوزہ اقدام کا مقصد ایندھن کی کھپت کم کرنا اور اخراجات میں کمی کے ذریعے وسائل کی بچت کرنا ہے۔ اس تجویز کے تحت سرکاری و نجی دفاتر، اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں ہفتے کے پانچ دن کے بجائے چار روز کام کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔
حکام کی جانب سے نئے ورکنگ شیڈول پر کام جاری ہے، تاہم چار روزہ ورکنگ ویک کی تجویز ابھی حتمی نہیں۔ اس پر عمل درآمد کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی اور سرکاری نوٹیفکیشن ضروری ہوگا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ چار روزہ ورکنگ ویک سے پٹرولیم مصنوعات کے علاوہ بجلی، سرکاری ٹرانسپورٹ اور دیگر انتظامی اخراجات میں بھی کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کو بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے 100 روپے فی لیٹر پٹرول ریلیف اسکیم کا اعلان کیا ہے، جسے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے بھی منظور کیا جاچکا ہے۔
وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین یومیہ بنیادوں پر کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہفتے میں تین تعطیلات کی تجویز کو حتمی شکل دینے کے لیے متعلقہ شعبوں سے ورکنگ شیڈول طلب کرلیا گیا ہے، جس کا مقصد ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کمی لانا ہے۔
حکومت کی جانب سے 15 ستمبر سے پٹرول کی قیمت میں 4.42 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 6.10 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد پٹرول 380.24 روپے جبکہ ڈیزل 409.42 روپے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔
رواں برس مارچ کے پہلے ہفتے میں پٹرول کی قیمت تقریباً 266 روپے اور ڈیزل کی قیمت 281 روپے فی لیٹر تھی، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل برینٹ کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔






