آئی ایم ایف کی شرط پوری، 60 فیصد خالی آسامیاں ختم کردی گئیں

اسلام آباد: آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کرتے ہوئے وفاقی وزارتوں اور محکموں میں 60 فیصد خالی آسامیاں ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط پر عملدرآمد کرتے ہوئے وفاقی حکومت نے سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے اہم اقدامات کا آغاز کردیا ہے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت، تمام وزارتوں اور ملحقہ سرکاری شعبوں میں خالی پڑی ہوئی 60 فیصد آسامیاں ختم کردی جائیں گی۔

دوسری جانب آئی ایم ایف سے اگلی قسط کے حصول کے لیے آئندہ ماہ پاکستان میں ہونے والے جائزاتی مذاکرات کے دوران بجلی کا بڑھتا ہوا گردشی قرضہ حکومت کے لیے بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق گردشی قرضہ آئی ایم ایف کی جانب سے مقرر کردہ 1,600 ارب روپے کے ہدف سے 130 فیصد زیادہ ہوچکا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے کشیدہ تعلقات کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے گردشی قرضے میں شدید اضافہ ہوا ہے۔

اس صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی معاشی ٹیم کو بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے بجائے متبادل منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

آئی ایم ایف سے مذاکرات کے دوران پاکستان سٹرکچرل بینچ مارکس اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر پیشرفت سے عالمی ادارے کو آگاہ کرے گا۔

مذاکرات کی کامیاب تکمیل پر پاکستان کو موجودہ قرض پروگرام کی پانچویں قسط کے تحت ایک ارب ڈالر ملنے کا امکان ہے، جبکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مزید 20 کروڑ ڈالر بھی فراہم کیے جائیں گے۔