امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے گوجرانوالہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریم نواز، ان کے چچا اور والد غریبوں کا استحصال کرتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ٹیکس ریٹرن اور گوشواروں میں یہ عام کاروباری شخص سے بھی کم ظاہر کرتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ عالمی مارکیٹ کے باعث پٹرول کی قیمتیں بڑھی ہیں، ہم عالمی مارکیٹ کی بات سمجھتے ہیں، لیکن یہ بتائیں کہ لیوی اور بھاری ٹیکسز کیوں ہیں؟ مقامی آئل کی قیمت بھی درآمدی آئل کے برابر وصول کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک سال میں 1567 ارب روپے لیوی وصول کی گئی ہے، جبکہ سیکڑوں مربع زمینوں کے مالکان حکومت کو ٹیکس نہیں دیتے۔ تنخواہ دار طبقے سے ہر چیز پر ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، عام آدمی کو اسپتالوں میں کوئی سہولت نہیں ملتی اور تعلیم خریدنی پڑتی ہے۔ طالب علم جس کی کوئی آمدنی نہیں، اس سے بھی 135 روپے بھتہ لیا جاتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ صرف تین فیصد سود کم کرنے سے لیوی سے کہیں زیادہ آمدنی حاصل ہوگی۔ حکومتی مافیا بینکوں کے مافیا سے مل کر سود ادا کرتا ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک آزاد ہوگیا ہے، یہ جھوٹ ہے کہ اسٹیٹ بینک خودمختار ہے۔ پی ٹی آئی، ن لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت سب نے مل کر اسٹیٹ بینک کو خودمختار بنایا۔
انہوں نے کہا کہ سود کو چند فیصد کم کرکے لیوی سے جان چھڑائی جاسکتی ہے۔ حکمران بینکوں، چینی، آٹا اور آئی پی پیز مافیا سے بات نہیں کرسکتے۔ حکمرانو، سمجھ جاؤ، جب عوام کا سمندر آیا تو برداشت نہیں کر پاؤ گے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 20 ستمبر کو گوجرانوالہ سے تاریخی اسلام آباد لانگ مارچ ہوگا۔ آج گوجرانوالہ میں تاریخی اعلان کرنے جارہا ہوں۔ حکومت نے ہماری ٹیم سے مسلسل مہلت مانگی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے کہا کہ ہم مجبور ہیں، پٹرول کی قیمتیں کم نہیں کرسکتے۔ کیا اسٹیبلشمنٹ کہتی ہے کہ تم سود کم نہ کرو اور لیوی بھتہ لو؟ لاکھوں عوام کا سمندر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرے گا۔ اگر لیوی بھتہ ختم نہ ہوا تو فیصلہ اسلام آباد کی سڑکوں پر ہوگا۔ ہم چاروں اطراف سے اسلام آباد میں داخل ہوں گے اور 25 کروڑ عوام کے حقوق کے لیے نکلے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہم بڑھتے ہی چلے جائیں گے، آپ کے پاس ایک ہی آپشن ہے، لیوی کا خاتمہ۔ لیوی بھتے کو فوری طور پر ختم کرو اور آئی پی پیز سے بات کرو۔ اگر آئی ایم ایف کہتا ہے کہ لیوی لینی ہے تو مریم نواز نے جہاز آئی ایم ایف سے پوچھ کر لیا؟ مریم نواز کا دورہ لندن آئی ایم ایف سے پوچھ کر کیا جارہا ہے؟ بینکوں کے قرضے آئی ایم ایف سے پوچھ کر معاف ہوتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ ری گیسیفکیشن کے بھی ناجائز معاہدے کیے گئے، 5 لاکھ 38 ہزار ڈالر روزانہ ری گیسیفکیشن کی کیپسٹی پیمنٹ لی جارہی ہے۔






