وزیر مملکت برائے ڈیجیٹل اثاثہ جات اور چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ اتھارٹی کے قیام کے بعد پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کی تجارت قانونی دائرے میں آچکی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ اب نوجوان ڈیجیٹل کرنسی اور ورچوئل اثاثوں میں قانونی طور پر لین دین کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے تحت اس شعبے میں نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دی جارہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے ساتھ اسٹیٹ بینک، وزارتِ خزانہ اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سمیت تمام متعلقہ ادارے مشاورت میں شامل ہیں۔ اتھارٹی کا مقصد ورچوئل اثاثوں کے لین دین کو دستاویزی اور شفاف بنانا جبکہ جعلی اور فراڈ کرنے والی کمپنیوں کی روک تھام کرنا ہے۔ ان کے مطابق اب تک ورچوئل اثاثوں کی تجارت کے لیے 70 درخواستیں موصول ہوچکی ہیں۔
بلال بن ثاقب نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کے لین دین سے متعلق شرعی رہنمائی کے لیے شریعہ ایڈوائزری بورڈ بھی قائم کیا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں مفتی اعظم پاکستان کو اعتماد میں لیا گیا ہے اور ان سے مسلسل رہنمائی حاصل کی جارہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل ترسیلاتِ زر کی لاگت موجودہ 6.5 فیصد سے کم کرکے ایک فیصد تک لانے کی کوشش کی جارہی ہے، جس سے ملک کو تقریباً 41 کروڑ ڈالر کی بچت ہوسکتی ہے۔
وزیر مملکت کے مطابق پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کے تقریباً 4 کروڑ صارفین کی گنجائش موجود ہے اور اتھارٹی نے اپنے قیام کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں بلاک چین اور ورچوئل اثاثوں کے ذریعے چھوٹی کمپنیاں بھی ایک ارب ڈالر تک منافع کما رہی ہیں۔






