کراچی کی مقامی عدالت نے کارساز حادثے میں باپ بیٹی کی ہلاکت کے مقدمے کے بعد نتاشا دانش کے خلاف درج منشیات کے کیس میں ناکافی شواہد کی بنیاد پر انہیں بری کردیا۔
19 اگست 2024 کو نتاشا دانش نے کارساز کے علاقے میں تیز رفتار ٹویوٹا لینڈ کروزر سے تین موٹر سائیکلوں اور ایک گاڑی کو ٹکر ماری تھی۔ حادثے کے نتیجے میں 60 سالہ عمران عارف اور ان کی 22 سالہ بیٹی آمنہ جاں بحق جبکہ تین افراد زخمی ہوگئے تھے۔
حادثے کے بعد نتاشا دانش کو موقع سے گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔ بعد ازاں طبی معائنے کی رپورٹ کی بنیاد پر ان کے خلاف منشیات کے استعمال کا الگ مقدمہ بھی قائم کیا گیا، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ حادثے کے وقت وہ کرسٹل میتھ، جسے عام طور پر ’آئس‘ کہا جاتا ہے، کے زیرِ اثر تھیں۔
منشیات کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ کی عدالت میں ہوئی، جہاں عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمہ کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت کے فیصلے کے بعد نتاشا دانش کو مقدمے سے بری کردیا گیا۔
نتاشا دانش کے وکیل فواد علی کچھی نے میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ان کی موکلہ کے کیمیائی معائنے اور خون کے ٹیسٹ میں میتھ ایمفیٹامین یا کرسٹل میتھ کے کوئی آثار نہیں ملے۔ وکیل نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پولیس نے نتاشا کے سیمپلز میں ردوبدل کیا اور تفتیشی افسر نے خون کے ٹیسٹ کی رپورٹ بھی چھپائی۔
نتاشا دانش کے خلاف منشیات کا مقدمہ پروہیبیشن (انفورسمنٹ آف حد) آرڈر 1979 کی دفعہ 11 کے تحت درج کیا گیا تھا، جو نشہ آور اشیا کے استعمال سے متعلق ہے۔ مئی 2025 میں عدالت نے اس مقدمے سے بریت کی ان کی درخواست مسترد کردی تھی۔
کارساز حادثے کے فوراً بعد درج ہونے والے قتل کے مقدمے میں بھی نتاشا دانش کو نامزد کیا گیا تھا۔ سندھ پولیس کے مطابق متاثرہ خاندان کے وکیل کی درخواست پر کرائے گئے طبی معائنے میں نتاشا کے حادثے کے وقت کرسٹل میتھ کے زیرِ اثر ہونے کی تصدیق ہوئی تھی، جس کے بعد منشیات کے استعمال کا الگ مقدمہ درج کیا گیا۔
6 ستمبر 2024 کو سیشن عدالت نے مقتولین کے اہل خانہ کی جانب سے نتاشا دانش کو بغیر کسی دیت معاف کیے جانے کے بعد قتل کے مقدمے میں ان کی ضمانت منظور کی تھی۔
دوسری جانب، اسی ماہ جوڈیشل مجسٹریٹ اور سیشن عدالت نے منشیات کے مقدمے میں نتاشا دانش کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کردی تھیں۔ عدالت نے اس وقت قرار دیا تھا کہ خون اور پیشاب کے نمونوں میں ردوبدل کیے جانے سے متعلق دفاع کا مؤقف درست ثابت نہیں ہوا۔ بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے منشیات کیس میں ان کی ضمانت منظور کرلی۔
31 اکتوبر 2024 کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے فریقین کے درمیان طے پانے والے صلح نامے کو قبول کرتے ہوئے نتاشا دانش کو قتل کے مقدمے میں بھی بری کردیا تھا۔






