شانگلہ (آن لائن) تحریک انصاف کے مقامی رہنماؤں نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد جانے کا فیصلہ ہوچکا ہے اور وہ اپنے جائز مطالبات اور سیاسی حق کے لیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عدالتی فیصلے کے مطابق قائد عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج کے لیے منتقل کیا جائے۔
مقامی رہنماؤں نے کہا کہ سیاسی انتقام میں بے گناہ قید عمران خان کی رہائی ملک کے لیے ناگزیر ہے۔ اس وقت ملک انتہائی مشکلات سے گزر رہا ہے، جبکہ روز بروز ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ عام پاکستانی کے لیے دو وقت کی روٹی دینا بھی مشکل بنا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف صرف اپنے جائز مطالبات اور حقوق کے حصول کے لیے اسلام آباد کی طرف جمہوری، آئینی اور سیاسی انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرنا چاہتی ہے۔ مرکزی حکومت گھبراہٹ کا شکار ہے اور اسی ڈر میں اس کے وزراء مختلف بیانات دے رہے ہیں۔ مرکزی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام اور یہاں جمہوری عوامی ووٹ سے قائم حکومت کے مینڈیٹ کا احترام کرے۔
ان خیالات کا اظہار پی ٹی آئی شانگلہ کے صدر لیاقت یوسفزئی، سابق امیدوار قومی اسمبلی و میئر بشام حاجی سدید الرحمن، پارٹی کے سینئر رہنماؤں فواد علی نور، وقار احمد خان اور دیگر نے جمعہ کے روز شانگلہ پریس کلب الپوری میں منعقدہ شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں سے سینکڑوں مقامی رہنماؤں نے اپنے خاندان، عزیز و اقارب، رشتہ داروں اور ساتھیوں سمیت ان جماعتوں سے مستعفی ہو کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور شوکت یوسفزئی کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
مقررین نے کہا کہ شوکت یوسفزئی نے شانگلہ میں ریکارڈ ترقیاتی منصوبے کیے ہیں جو دیگر جماعتوں نے نہ کیے ہیں اور نہ ہی کریں گے۔ ان کے اقتدار میں شانگلہ کے عوام کے لیے ایک تاریخی دور آیا اور یہاں ترقی کا نیا سفر شروع ہوا۔ اسی وجہ سے دیگر جماعتوں سے اپنی وابستگی ختم کرکے تحریک انصاف میں شوکت یوسفزئی کی قیادت میں شامل ہوئے ہیں۔
اس موقع پر مسلم لیگ ن پاگوڑئی کے صدر محمد اقبال خان، گل ہمریز، فضل امین جبکہ پیپلز پارٹی سے محمد آفسر، ظاہر شاہ، اللہ ذادہ اور نجیب سمیت دیگر نے تحریک انصاف میں شامل ہوکر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کا ایک ہی جمہوری، آئینی، اخلاقی اور سیاسی مطالبہ ہے کہ ان کے قائد عمران خان کے خلاف تمام سیاسی مقدمات ختم کرکے ان کی رہائی کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت عمران خان کی صحت کے حوالے سے تحریک انصاف کے ہر ورکر، کارکن اور ووٹر میں تشویش پائی جاتی ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے باوجود عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال علاج کے لیے منتقل نہ کرنا حکومت کی بدنیتی اور سیاسی انتقام واضح کر رہا ہے جس کے لیے پی ٹی آئی کا کوئی بھی فرد تیار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں بتایا جائے کہ ہم اس ملک میں سب سے مقبول سیاسی جماعت کے بانی کے جائز آئینی، قانونی، اخلاقی اور سیاسی حقوق مانگ رہے ہیں۔
تحریک انصاف کے رہنماؤں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کا ہر شہری حکومت کی پالیسیوں، آئے روز مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے اور بے روزگاری کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے اور وہ اس وقت عمران خان چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی واضح پالیسی ہے کہ شانگلہ جیسے پسماندہ علاقوں کو ترقی دی جائے، اسی وجہ سے ہر روز کثیر تعداد میں لوگ تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شانگلہ کی ترقی اور محسن شانگلہ شوکت یوسفزئی نے اپنے دور اقتدار میں بھرپور کوشش کی اور اب بھی شانگلہ کی ترقی، یونیورسٹی سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں میں اپنا کردار ادا کیا۔
اس موقع پر تحریک انصاف کے مقامی رہنماؤں نے نئے شامل ہونے والے افراد کو پارٹی کیپ اور مختلف مفلر پہنائے اور انہیں پی ٹی آئی میں شمولیت پر خوش آمدید کہا۔ رہنماؤں نے نئے شامل ہونے والے افراد کو یقین دہانی کرائی کہ پارٹی میں ان کی بھرپور عزت و احترام کیا جائے گا اور ان کے ہر جائز کام کے لیے بھرپور تعاون کیا جائے گا۔
اس موقع پر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والے افراد نے کہا کہ انہوں نے اپنی سابقہ سیاسی وابستگیاں ختم کرکے تحریک انصاف میں شمولیت کا فیصلہ شوکت یوسفزئی کی قیادت اور شانگلہ میں ان کی جانب سے کیے گئے ترقیاتی کاموں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شوکت یوسفزئی نے اپنے دور اقتدار میں شانگلہ میں ریکارڈ ترقیاتی منصوبے مکمل کیے، یونیورسٹی سمیت مختلف منصوبے دیے اور شانگلہ میں ترقی کا نیا سفر شروع کیا، جس کی وجہ سے وہ ان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر تحریک انصاف کے مقامی رہنماؤں نے نئے شامل ہونے والے افراد کو پارٹی میں شمولیت پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں شامل ہونے والے تمام افراد کو عزت و احترام دیا جائے گا اور ان کے جائز مسائل کے حل کے لیے بھرپور کوشش کی جائے گی۔
بعدازاں 27 ستمبر کے اسلام آباد دھرنے کے حوالے سے ڈیڈک آفس میں اجلاس منعقد ہوا، جس میں پروگرام کا حتمی جائزہ لیا گیا۔ قافلوں کی روانگی، روٹس کے تعین سمیت مختلف امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جس میں ضلع بھر سے پارٹی کے کارکنان اور رہنماؤں نے شرکت کی۔
شوکت یوسفزئی نے بھی اپنے ویڈیو پیغام میں کل کی تیاریوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا اور پارٹی میں نئے شامل ہونے والوں کو مبارکباد دی۔






