اسلام آباد کے سرکاری اسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی نرسری میں آتشزدگی کے بعد انتظامیہ کی مبینہ غفلت سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق کیپیٹل فائر سروسز نے 2018 سے پمز انتظامیہ کو فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات کے حوالے سے متعدد نوٹسز جاری کیے تھے۔ فائر سروسز کی جانب سے پانچ لاکھ روپے جرمانے اور اسپتال سیل کرنے کی وارننگ بھی دی گئی تھی، جبکہ بند ایمرجنسی راستوں اور کھلی وائرنگ کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔
10 نومبر 2025 کو جاری کیے گئے حتمی نوٹس میں حفاظتی اقدامات نہ کیے جانے کو دانستہ غفلت قرار دیتے ہوئے خبردار کیا گیا تھا کہ کسی بھی حادثے کی صورت میں ذمہ داری اسپتال انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ اس نوٹس کی نقول وزارت قومی صحت، کیڈ، ایم سی آئی اور سی ڈی اے کو بھی ارسال کی گئی تھیں۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی حکومت نے پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عمران سکندر کو چار ماہ کے لیے معطل کر دیا ہے۔ وزارت صحت کے نوٹیفکیشن کے مطابق این آئی ایچ کے ڈاکٹر محمد سلمان کو تین سال کے لیے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کا اضافی چارج سونپا گیا ہے۔
اسپتال کے انتظامی امور کے لیے ڈاکٹر الطاف حسین کو جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نان میڈیکل، ڈاکٹر نزہت یاسمین کو جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر چلڈرن اسپتال، ڈاکٹر شمائلہ کو شعبہ امراضِ نسواں کی سربراہ، ڈاکٹر رحمانہ وارث کو ایسوسی ایٹ پروفیسر پیڈیاٹرکس، ڈاکٹر آمنہ کو شعبہ امراضِ نسواں ایم سی ایچ میں سینئر رجسٹرار اور حسن اشرف کو اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے سانحے میں جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں کے لواحقین کے لیے فی خاندان 50 لاکھ روپے مالی معاوضے کا بھی اعلان کیا ہے۔






