کوئٹہ (آن لائن) بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے مستونگ اور کھڈکوچہ کے باغات سے متعلق بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ عوام اپنے معاشی حقوق پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
بی این پی کے مرکزی بیان میں کہا گیا کہ سرفراز بگٹی اپنی مسلسل ناکامیوں، نااہلی اور گزشتہ ڈھائی سالہ طرزِ حکمرانی کے باعث بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ بلوچستان کے بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکامی کے بعد اب مستونگ اور کھڈکوچہ کے تاریخی اور عوامی باغات کے خاتمے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ مستونگ اور کھڈکوچہ کے باغات محض درختوں کا مجموعہ نہیں بلکہ مقامی لوگوں کی نسلوں کی محنت، معاشی بقا، روزگار اور مستقبل سے وابستہ ہیں۔ کئی خاندانوں نے دہائیوں تک ان باغات کی دیکھ بھال کی اور اپنی زندگی بھر کی کمائی ان کی آبادکاری پر خرچ کی۔
بی این پی نے کہا کہ اگر حکومت کو کسی معاملے پر قانونی یا انتظامی تحفظات ہیں تو انہیں آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حل کیا جائے، عوام کو دھمکیاں دے کر ان کی محنت اور معاشی حقوق کو نقصان پہنچانے کی کوشش قابلِ قبول نہیں۔
پارٹی نے خبردار کیا کہ بلوچ عوام اپنے روزگار، زمین، باغات اور معاشی حقوق کو نقصان پہنچانے والا کوئی اقدام برداشت نہیں کریں گے اور دھمکیوں سے انہیں خاموش نہیں کرایا جاسکتا۔
بی این پی کے مطابق سرفراز بگٹی کا طرزِ عمل جمہوری حکومت کے بجائے دھمکی، دباؤ اور طاقت کے استعمال کی سیاست کی عکاسی کرتا ہے۔ پارٹی مستونگ، کھڈکوچہ اور بلوچستان کے عوام کے معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، جمہوری اور سیاسی فورم پر آواز بلند کرے گی۔
بیان میں سرفراز بگٹی سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ دھمکیوں اور طاقت کی زبان ترک کریں اور بلوچستان کے عوام کو دھمکانے کے بجائے اپنی حکومت کی کارکردگی اور ناکامیوں کا جواب دیں۔






