تین روز گزرنے کے باوجود پمز نرسری سانحے کی تحقیقاتی کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ تاحال سامنے نہیں آسکی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی، جس نے عملے اور افسران کے بیانات بھی ریکارڈ کرلیے تھے۔ پارلیمنٹ میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی گزشتہ رات تک ابتدائی رپورٹ پیش کیے جانے کا عندیہ دیا تھا۔
وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بھی جلد ابتدائی رپورٹ سامنے آنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، تاہم یہ رپورٹ اب تک پیش نہیں کی جاسکی ہے۔
گزشتہ روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ سانحہ پمز کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور ان سمیت جو بھی ذمہ دار ہوگا، اسے نہیں چھوڑا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحہ پمز کی تحقیقاتی رپورٹ اسی روز وزیراعظم کو پیش کی جائے گی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کسی کو بچایا جائے گا اور نہ ہی رپورٹ چھپائی جائے گی، کوئی کتنا ہی بڑا طرم خان ہو، نہیں بچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارت ان کے سامنے کچھ نہیں بیچتی۔
وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان میں گلا سڑا نظام ہے، کسی برے شخص کو ہٹا کر اچھا شخص کہاں سے لاؤں؟ ہر کوئی کہتا ہے کہ اس کا چور ہٹا کر میرا چور لگا دو۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں، وہ کام وہ ان کی سوچ سے بھی پہلے کرچکے ہیں۔
دریں اثنا قومی اسمبلی نے سانحہ پمز سے متعلق متفقہ قرارداد بھی منظور کرلی ہے۔ بیرسٹر دانیال چوہدری کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں سانحے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔






