پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں آتشزدگی کے واقعے میں زندہ بچ جانے والی واحد نومولود بچی کی خالہ نے واقعے سے متعلق اہم تفصیلات بیان کی ہیں۔
خالہ کے مطابق آگ لگنے کے وقت وہ موقع پر موجود تھیں۔ جیسے ہی آگ بھڑکی، وہ وارڈ کی طرف دوڑیں جہاں ایک لیڈی ڈاکٹر اپنی جان بچا کر باہر نکل رہی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود اندر جا کر اپنی مدد آپ کے تحت اپنی بھانجی کو اٹھایا، اس دوران آگ ان کے بالوں اور کندھے تک پہنچ گئی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت وارڈ میں کوئی ڈاکٹر یا نرس موجود نہیں تھی اور عملہ اپنی جان بچانے کے لیے باہر نکل چکا تھا۔ ان کے مطابق ایک مرد ڈاکٹر بھی موقع سے چلا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی بہن کا آپریشن ہوا تھا، اس لیے انہوں نے اپنی بہن اور نومولود بچی کو ساتھ لیا اور فوری طور پر دونوں کو پولی کلینک منتقل کیا۔
خالہ کے مطابق پمز انتظامیہ مسلسل ان سے رابطہ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کبھی یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ وہ کسی اور کا بچہ لے کر آئی ہیں، جبکہ کبھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بچی کو کسی ڈاکٹر نے بچایا۔ انہوں نے انتظامیہ کے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بچی کو انہوں نے خود وارڈ سے نکالا تھا۔
واضح رہے کہ آتشزدگی کے واقعے میں 15 نومولود جاں بحق ہوئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ صبح 6 بج کر 45 منٹ پر ایئرکنڈیشن کے کمپریسر پھٹنے کے باعث لگی تھی۔






