پمز اسپتال کے نرسری فلور پر آتشزدگی کے واقعے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق نرسری والے فلور پر لیبر روم اور کینگرو روم بھی موجود ہیں، جبکہ نرسری کے علاوہ آٹھ کمرے ماؤں اور نومولود بچوں کے لیے مختص ہیں۔ واقعے کے وقت ان کمروں میں بھی مائیں اور بچے داخل تھے، تاہم وہ محفوظ رہے۔ اگر آگ مزید پھیلتی تو ان ماؤں اور بچوں کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نرسری کے باہر لگے تالے کو کھولنے میں بھی تاخیر ہوئی، جبکہ ہنگامی صورتحال میں یہ واضح نہیں تھا کہ نرسری کا تالا کھولنے کی ذمہ داری کس کی ہے۔
سانحے کی ابتدائی رپورٹ بھی تیار کرلی گئی ہے، جس کے مطابق آگ اے سی کمپریسر یا شارٹ سرکٹ کے باعث نہیں لگی۔ رپورٹ کے مطابق این آئی سی یو میں ایک انکیوبیٹر کے ساتھ موجود آکسیجن کی مقدار بتانے والا نیبولائزر پھٹ گیا، جس کے بعد آکسیجن نے آگ پکڑ لی۔
رپورٹ کے مطابق آگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والا دھواں پائپ کے ذریعے بچوں کے سانس میں داخل ہوا۔ بچوں کی اموات کی وجوہات میں آکسیجن کی فراہمی متاثر ہونا اور جھلسنا بھی شامل بتایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آگ ابتدا میں کم شدت کی تھی، تاہم بعد میں تیزی سے پھیل گئی۔






