پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سپریم کورٹ کی جانب سے بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے حکم کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کو اسلام آباد کے نجی اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتے ہوئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور طبی رپورٹس عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان مقبول ترین لیڈر ہیں اور عدالتوں کا کام انصاف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا فیصلہ ظلم اور فسطائیت کا ازالہ نہیں کرسکتا، تاہم مزید انصاف کی امید ہے۔
سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کارکنان کو اسپتال کی حدود میں نہ آنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ پارٹی سے تعلق نہ رکھنے والے عناصر انتشار پھیلانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کارکنان پر زور دیا کہ وہ پرامن رہیں اور عمران خان کو علاج کی سہولت فراہم کرنے دیں۔
عدالتی حکم کے بعد عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا کہ عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ میڈیا سے گفتگو نہیں کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ کوئی ایسی بات نہ کہہ دیں جس سے عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہو۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو اللہ کا شکر ادا کرنے کی تلقین کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے بشریٰ بی بی کو بھی اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔
بیرسٹر گوہر نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ شفا انٹرنیشنل اسپتال کے باہر جمع نہ ہوں اور کہا کہ پی ٹی آئی سپریم کورٹ کے حکم پر من و عن عمل کرے گی۔ انہوں نے حکومت اور مقتدر حلقوں سے بھی عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’بہت ہو گیا، 4 سال بہت زیادہ ہو گئے، یہ بلی چوہے کا کھیل ختم کریں۔‘‘






