بحیرۂ احمر کی سکیورٹی کے لیے بڑا بحری اتحاد قائم، پاکستان سمیت 13 ممالک شامل

سعودی عرب کی قیادت میں بحیرۂ احمر، خلیج عدن اور آبنائے باب المندب میں بحری سلامتی اور آزادانہ آمدورفت کے تحفظ کے لیے کثیر ملکی اتحاد تشکیل دے دیا گیا ہے۔

عالمی میڈیا الجزیرہ کے مطابق سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ، مصر، بحرین، بنگلہ دیش، کویت، قطر، اردن، صومالیہ، سوڈان، یمن، جبوتی اور کوموروس سمیت 13 ممالک نے اتحاد میں باضابطہ شمولیت اختیار کرلی ہے، جبکہ مزید ممالک کی شمولیت بھی متوقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق اتحاد کا مقصد رکن ممالک کے درمیان انٹیلی جنس اور معلومات کا تبادلہ، مشترکہ بحری مشقیں، آپریشنل منصوبہ بندی اور بحری دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔

سعودی وزارت دفاع کے مطابق اتحاد کو مرحلہ وار ادارہ جاتی اور عملی شکل دی جا رہی ہے، جبکہ مشترکہ بحری کارروائیوں اور دفاعی تعاون کے طریقہ کار پر بھی کام جاری ہے۔

الجزیرہ کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں کو درپیش خطرات کے باعث اس اتحاد کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اتحاد کی اصل اہمیت اس بات سے واضح ہوگی کہ رکن ممالک سیاسی فیصلوں کو عملی بحری تعاون میں کس حد تک تبدیل کرتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اس اتحاد کے ذریعے بحری جہازوں اور عالمی تجارت کو لاحق خطرات کا مقابلہ وسیع تر بین الاقوامی تعاون کے ساتھ کرنا چاہتا ہے۔