راولپنڈی (آئی این پی) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ آج ہمیں بلوچستان کے بنیادی مسئلے پر پہنچنا ہے۔ صوبے کا مسئلہ وہیں کے سردار اور ایلیٹ طبقہ ہے، جو چاہتے ہیں کہ غریب کا بچہ تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ انہیں لیویز فورس کی تنخواہیں بھی چاہئیں اور اپنے ذاتی گھروں کی چوکیداری کے لیے بھی لیویز فورس چاہیے۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران بلوچستان کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردوں کا ایک قبیلہ ہے، جس میں اسٹیٹس کو موجود ہے، اور اسٹیٹس کو یہ ہے کہ غریب کا بچہ تعلیم حاصل نہ کرے اور ہمیشہ ان کا غلام رہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا حقوق کی بات کرنے والے اپنے فرائض سے بھی آگاہ ہیں؟
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ یہ کاروبار کے نام پر منشیات اور ڈیزل کی اسمگلنگ کرتے ہیں۔ سردار چاہتے ہیں کہ ایک ہزار ارب روپے کے بجٹ میں انہیں حصہ ملے، لیکن ایسا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سردار کہتے ہیں کہ اگر ہمیں حصہ نہیں دو گے تو دہشت گردی کروائیں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انہیں عادت ہے کہ لیویز ان کی ذاتی فورس ہے اور وہ اس کے سردار ہیں۔ انہیں یہ مسئلہ ہے کہ ان کے پیروں کو ہاتھ کیوں نہیں لگایا جا رہا، جبکہ حقیقت میں بلوچستان کے عوام ہی صوبے کے اصل اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اپنے غیر قانونی دھندوں کے لیے پرمٹس مانگتے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ کیا ہم ہارڈ اسٹیٹ ہیں یا نہیں؟ ہارڈ اسٹیٹ وہ ہوتی ہے جس میں تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق ہوں۔ ہارڈ اسٹیٹ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ملٹری ریاست چلا رہی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 5 واضح طور پر کہتا ہے کہ وفاداری صرف ریاست سے ہوگی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں آئین اور قانون سب کے لیے یکساں ہے، اور تمام معاملات کو آئین و قانون کے مطابق ہی دیکھا جائے گا۔






