پاکستان اور قطر نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے دو ہفتوں کی جنگ بندی پر مشتمل ایک مشترکہ امن تجویز پیش کی ہے، جبکہ ایران نے تصدیق کی ہے کہ اسے ثالثوں کے ذریعے موصول ہونے والی تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مجوزہ فارمولے میں امریکا اور ایران سے فوری طور پر دو ہفتے کی جنگ بندی کرنے اور 9 جولائی سے پہلے کی پوزیشن پر واپس آنے کی اپیل کی گئی ہے۔ اس تجویز کا مقصد تعطل کا شکار سفارتی مذاکرات بحال کرنا اور جاری تنازع کے مستقل حل کی راہ ہموار کرنا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ تہران کو مختلف ثالثوں کے ذریعے تجاویز موصول ہوئی ہیں، جن کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کشیدگی کم کرنے کی ہر سفارتی کوشش کا خیرمقدم کرتا ہے، تاہم اس مرحلے پر مزید تفصیلات جاری نہیں کی جا سکتیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ سفارتی حل کے لیے تیار ہے اور ایران کی جانب سے بات چیت کے مثبت اشارے موصول ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات ممکن ہیں۔
یاد رہے کہ 17 جون کو پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے باوجود گزشتہ ہفتے 9 جولائی کو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور تیل پر پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
پاکستانی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کی جانب سے مثبت ردعمل کی امید ظاہر کی جا رہی ہے، اور اگر پیش رفت ہوئی تو جنوبی لبنان اور غزہ میں جنگ بندی سے متعلق مذاکرات بھی آگے بڑھائے جا سکتے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






