وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیٹرول کی قیمت میں فوری کمی نہ کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے مستحکم ہونے کے بعد مزید ریلیف بھی بلا تاخیر عوام کو منتقل کیا جائے گا۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ ہونے پر حکومت کو تنقید کا سامنا ہے، جس پر وفاقی وزیر پیٹرولیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وضاحتی بیان جاری کیا۔
انہوں نے بتایا کہ برینٹ کروڈ کی قیمت گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 9.69 ڈالر، ڈبلیو ٹی آئی 8.53 ڈالر اور عرب لائٹ 4.14 ڈالر فی بیرل کم ہوئی ہے۔
علی پرویز ملک نے وضاحت کی کہ عوام اور ریفائنریز خام تیل نہیں بلکہ ریفائنڈ پیٹرول اور ڈیزل استعمال کرتے ہیں، اس لیے قیمتوں کا تعین ریفائنڈ مصنوعات کی ہفتہ وار اوسط قیمتوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق 22 جون کو عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمت 98.35 ڈالر فی بیرل تھی جو 26 جون تک کم ہو کر 91.68 ڈالر فی بیرل رہ گئی، جبکہ ڈیزل کی قیمت 109 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 104.79 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نہ کسی مخصوص شعبے کو ترجیح دے رہی ہے اور نہ ہی عوام پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے کی تمام قیمتوں کا ریکارڈ عوام کے سامنے رکھا جا چکا ہے اور اسی بنیاد پر پہلے بھی ریلیف فراہم کیا گیا۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام کے بعد مزید کمی کا فائدہ بھی فوری طور پر عوام تک پہنچایا جائے گا۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے تحت اب تک ڈیزل کی قیمت میں مجموعی طور پر 200 روپے اور پیٹرول کی قیمت میں 155 روپے سے زائد کمی کی جا چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ریفائنریز کے لیے کیے گئے انتظامات، حاصل ہونے والے منافع اور اربوں روپے کی ہدفی سبسڈی کے ذریعے عوام کی مشکلات کم کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ آج بھی پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کو کم سطح پر رکھا گیا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






