لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمین کی ترقیوں اور رول 17-اے کے تحت ہونے والی تقرریوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ رول 17-اے کے خاتمے کے باوجود اس کے تحت پہلے سے حاصل شدہ ملازمت کے حقوق محفوظ رہیں گے۔
جسٹس محمد فیصل زمان خان نے محمد محبوب کی درخواست منظور کرتے ہوئے رول 17-اے کے تحت تعینات ملازم کی برطرفی کا حکم کالعدم قرار دے دیا اور درخواست گزار کو فوری طور پر ملازمت پر بحال کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ والد کی میڈیکل ریٹائرمنٹ کی بنیاد پر حاصل ہونے والا ملازمت کا حق بعد میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا اطلاق ماضی پر نہیں بلکہ مستقبل پر ہوتا ہے، جبکہ قانون کے خاتمے سے قبل حاصل شدہ حقوق آئینی تحفظ کے مستحق ہوتے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کی جانب سے تقرری منسوخ کرنے کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کو مؤقف پیش کرنے کا موقع دیے بغیر ملازمت سے فارغ کرنا آئین کے آرٹیکل 10-اے اور منصفانہ سماعت کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ قدرتی انصاف کے اصولوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور وفاقی آئینی عدالت کے فیصلوں کی روشنی میں درخواست گزار کو ریلیف دیا گیا ہے۔
اس فیصلے کے ساتھ لاہور ہائیکورٹ نے رول 17-اے اور سرکاری ملازمین کے اہل خانہ کی تقرریوں سے متعلق ایک اہم قانونی نظیر بھی قائم کر دی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






