پنجاب حکومت کی مریضوں کو اربوں روپے کی مفت طبی سہولیات فراہم

لاہور: حکومت پنجاب کی جانب سے شعبۂ صحت میں جاری فلاحی منصوبوں کے تحت مختلف خصوصی پروگراموں کے ذریعے مریضوں کو اب تک 18 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی مفت طبی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔

یہ انکشاف پنجاب ہیلتھ انیشی ایٹو مینجمنٹ کمپنی کے 116ویں بورڈ اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کی۔ اجلاس میں صحت کے مختلف منصوبوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور شفافیت برقرار رکھنے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔

اجلاس میں سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن عظمت محمود، سیکرٹری خزانہ مجاہد شیر دل اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

خواجہ سلمان رفیق نے بتایا کہ چیف منسٹرز ایڈلٹ کارڈیک سرجری پروگرام کے تحت دل کے مریضوں کو سالانہ 3 ارب روپے سے زائد کی مفت طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ چیف منسٹرز سپیشل انیشی ایٹو فار کینسر پیشنٹس کے تحت کینسر کے مریضوں کو سالانہ 13 ارب روپے مالیت کی مفت تشخیص، کیموتھراپی، ریڈیوتھراپی، سرجری اور دیگر طبی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سٹروک مینجمنٹ پروگرام کے تحت فالج کے مریضوں کے لیے بھی سالانہ 3 ارب روپے سے زائد کی مفت سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

صوبائی وزیر صحت کے مطابق چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت اب تک 13 ہزار 565 سے زائد بچوں کی مفت ہارٹ سرجریز کی جا چکی ہیں، جن میں پنجاب کے علاوہ خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر، اسلام آباد، بلوچستان، گلگت بلتستان اور سندھ سے تعلق رکھنے والے بچے بھی شامل ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ٹرانسپلانٹ پروگرام کے تحت اب تک 2 ہزار 96 کامیاب ٹرانسپلانٹس کیے جا چکے ہیں، جن میں گردہ، جگر، بون میرو، کوکلیئر اور قرنیہ (کورنئیل) ٹرانسپلانٹس شامل ہیں۔

اسی طرح ڈائیلسز پروگرام کے تحت 19 لاکھ 32 ہزار سے زائد مفت ڈائیلسز کیے جا چکے ہیں جبکہ 43 ہزار 606 مریض اس پروگرام میں رجسٹرڈ ہیں۔

کینسر پروگرام کے حوالے سے بتایا گیا کہ اب تک 30 ہزار 850 سے زائد مریض رجسٹرڈ ہو چکے ہیں جبکہ 66 ہزار 922 سے زائد مریضوں کو مفت علاج کی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔

اجلاس کے اختتام پر سیکرٹری صحت عظمت محمود نے ہدایت کی کہ امپینلڈ ہسپتالوں میں مریضوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں اور درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close