ہنر مند نوجوانوں اور گھر کے خواہشمند افراد کیلئے خوشخبری

پاکستان میں رواں سال مالی شمولیت کو بڑھانے اور عوام کو آسان قرضوں تک رسائی فراہم کرنے کے لیے ڈیجیٹل فنانسنگ، ہاؤسنگ فنانس اور ہنرمندی سے متعلق کئی نئے پروگرام متعارف کرائے گئے ہیں۔

حکومتی منصوبوں کے مطابق زرعی شعبے میں ڈیجیٹل فنانسنگ کے ذریعے 7 لاکھ 50 ہزار نئے قرض لینے والوں کو مالی سہولت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ان ڈیجیٹل قرضوں اور انشورنس سہولتوں کے باعث چھوٹے کسانوں اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے قرض تک رسائی پہلے کے مقابلے میں آسان ہو رہی ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ کے شعبے میں بھی پیش رفت رپورٹ کی گئی ہے، جہاں 40 ہزار سے زائد درخواستوں پر کارروائی مکمل یا جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی بچت فنانسنگ پروگرام کے تحت 10 کروڑ پنکھوں کی تبدیلی کا ہدف رکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک تقریباً 8 ہزار میگاواٹ تک بجلی کی بچت حاصل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اسی پالیسی فریم ورک کے تحت پاکستان نے اپنا پہلا اسکلز امپیکٹ بانڈ بھی متعارف کرایا ہے، جس میں حکومتی ضمانت اور روزگار سے منسلک مالی معاونت شامل ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدامات مالی شمولیت، روزگار کے مواقع، ہاؤسنگ، زرعی ترقی اور توانائی کی بچت کے ذریعے مجموعی معاشی ترقی میں کردار ادا کریں گے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close