آئی ایم ایف دباؤ، بجٹ میںکتنے سو ارب کے اضافی ٹیکس؟ پیٹرول ڈیزل سبسڈی سے متعلق بھی اہم فیصلہ

آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 17 ہزار ارب روپے سے زیادہ رکھے جانے کا امکان ہے۔

 

آئی ایم ایف کو آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں 860 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کروا دی گئی ہے جبکہ آئی ایم ایف کے دباؤ پر پیٹرول اورڈیزل پر سبسڈی بھی بند کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ جی ایس ٹی کی مد میں اضافی 2 ہزار ارب روپے اکٹھے کیے جائیں۔

ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں 7 ہزار ارب، جون 2027 تک 15 ہزار 267 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف متوقع ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اگلے بجٹ میں عوام پر 430 ارب کا اضافی بوجھ ڈ النے کا امکان ہے۔ 215ارب روپے اضافی ٹیکس اور باقی 215 ارب آڈٹ اور سخت نگرانی سے حاصل کیے جائیں گے۔ چاروں صوبے بھی 430 ارب کے نئے ٹیکس لگائیں گے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1727 ارب وصول کیے جائیں گے جو موجودہ مالی سال سے 260ارب روپے زیادہ ہیں۔ کسی شعبے کو ریلیف دینے کے لیے دیگر سیکٹرز پر بوجھ ڈالا جائے گا۔

آئی ایم ایف سے وعدے کے باوجود حکومت زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی میں ناکام رہی ہے۔ زرعی شعبے کا معیشت میں حصہ تقریباً 25 فیصد اور ٹیکس وصولی صرف 0.3 فیصد ہے۔

مزید برآں ایک رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کو سرکاری اداروں کی نجکاری تیز کرنے کی یقین دہانی کروا دی، خصوصی اقتصادی زونزکی ٹیکس مراعات 2035 تک ختم کرنے کا منصوبہ بھی شیئر کر دیا۔

ذرائع کے مطابق تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری ممکن نہ ہوئی تو بعض کمپنیوں کو ضم کرنیکی تجویز زیر غور ہے۔

حکومت نے فیصلہ کیاہے کہ آئیسکو، گیپکو اور فیسکو کے 51 سے 100 فیصد شیئرز 2027 کے آغاز میں فروخت کیے جائیں گے ۔

انتظامی کنٹرول بھی نجی شعبے کو منتقل کیا جائے گا۔27 سرکاری اداروں کی نجکاری پر پیشرفت جاری ہے ۔ روز ویلٹ ہوٹل کے لیے نئے مالی مشیر کی تقرری میں تاخیر کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close