ملک کے اہم علاقے میں مہلک وائرس موت واقع ، خوف و ہراس پھیل گیا

شہر قائد میں نیگلیریا سے سال کی پہلی ہلاکت، شہریوں کو احتیاط کی ہدایت

کراچی میں رواں سال نیگلیریا کے باعث پہلی ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔ کورنگی نمبر 4 کے رہائشی، جو دو بچوں کے والد تھے، نجی اسپتال میں دورانِ علاج انتقال کر گئے۔

طبی ماہرین کے مطابق متاثرہ شخص کی سوئمنگ کی کوئی ہسٹری موجود نہیں تھی، جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جرثومہ گھروں اور مساجد میں سپلائی ہونے والے نلکے کے پانی کے ذریعے ناک میں داخل ہوا۔ تاہم اس بارے میں حتمی تحقیقات اور سرکاری تصدیق ضروری ہے۔

اسپتال ذرائع کے مطابق مریض کو 5 جولائی کو تیز بخار، شدید سر درد اور دوروں کی شکایت کے باعث لیاقت نیشنل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ٹیسٹوں کے بعد نیگلیریا انفیکشن کی تشخیص ہوئی۔

اس واقعے کے بعد پانی میں مناسب کلورین کی فراہمی کا مسئلہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ طبی ماہرین اور صحت سے متعلق اداروں نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ گھروں کے واٹر ٹینکس کی باقاعدگی سے صفائی کریں، ضرورت کے مطابق کلورین کی گولیاں استعمال کریں، اور وضو یا ناک صاف کرتے وقت صاف، جراثیم سے پاک یا ابلا ہوا اور ٹھنڈا کیا گیا پانی استعمال کریں۔

نیگلیریا فاؤلری ایک آزادانہ طور پر رہنے والا امیبا ہے جو عموماً گرم میٹھے پانی میں پایا جاتا ہے۔ یہ بیماری اس وقت ہوتی ہے جب آلودہ پانی ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر دماغ تک پہنچ جائے۔ یہ جرثومہ پینے سے نہیں بلکہ ناک کے راستے داخل ہونے سے انفیکشن کا باعث بنتا ہے۔ بیماری تیزی سے بڑھ سکتی ہے، اس لیے علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ گرمیوں کے موسم میں اس کے کیسز نسبتاً زیادہ سامنے آتے ہیں، خصوصاً ایسے مقامات پر جہاں پانی کی مناسب کلورینیشن نہ کی گئی ہو۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close