اکثر لوگ گھر میں پکا ہوا کھانا بچ جانے پر بغیر سوچے سمجھے فریج میں رکھ کر اگلے روز استعمال کرلیتے ہیں، یہ سوچ کر کہ کھانا کل جیسا اچھا ہی ہوگا، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ کھانا واقعی اتنا محفوظ ہے کہ دوبارہ استعمال کیا جاسکے؟ یاد رکھیں!! فریج میں غلط طریقے سے کھانا محفوظ کرنا اور دوبارہ گرم کرنا صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اس حوالے سے ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ کسی بھی کھانے کو محفوظ کرنے کا طریقہ، چاہے وہ فریج میں ہو، فریزر میں یا مخصوص کنٹینرز میں، یہ طے کرتا ہے کہ کھانا اضافی دنوں تک کھانے کے قابل رہے گا یا جلد خراب ہو کر جراثیم کا شکار ہو جائے گا۔
فنگس اور خطرناک بیکٹیریا جیسے لسٹیریا، سالمونیلا اور ای کولائی حتیٰ کہ فریج کی ٹھنڈی حالت میں بھی پیدا ہوسکتے ہیں، اس لیے کھانے کی مدت اور تیاری کی تاریخ پر نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔
غذائی ماہرین کے مطابق گھر کا پکا ہوا کھانا دو گھنٹے کے اندر اندر فریج میں منتقل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ زیادہ دیر تک کمرے کے درجہ حرارت پر چھوڑنے سے بیکٹیریاز کی افزائش ہو سکتی ہے، جو کھانے کو خراب کرکے اسے غیر محفوظ بنا سکتے ہیں۔
عام طور پر اس بات کو نظر انداز کیا جاتا ہے کہ کھانا کتنی دیر تک فریج میں محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق گھر میں پکا ہوا بچا ہوا کھانا عام طور پر دو سے تین دن کے اندر استعمال کر لینا چاہئے تاکہ بیکٹیریا کی افزائش کو روکا جا سکے۔
مثلاً، پکے ہوئے چاول، دال، سبزیاں یا گوشت تین دن کے اندر کھا لینا ضروری ہے۔ دودھ یا کریم پر مبنی کھانے کی شیلف لائف اس سے بھی کم ہوتی ہے اور انہیں 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر استعمال کرلینا چاہئے۔
یاد رکھیں !! گرم کھانے کو فوراً فریج میں نہ رکھیں، گرم کھانا فوراً فریج میں رکھنا مضر ثابت ہوسکتا ہے، درجہ حرارت میں فرق کھانے کی خراب ہونے کی رفتار بڑھا دیتا ہے، کھانے کو کمرہ کے درجہ حرارت پر ٹھنڈا ہونے دیں، پھر اسے فریج میں محفوظ کریں۔
کھانے کو کھلے کنٹینرز میں رکھنے سے بچیں، اس سے بیکٹیریا ایک دوسرے میں منتقل ہوسکتے ہیں۔ ایئر ٹائٹ کنٹینرز استعمال کریں تاکہ کھانا خراب ہونے سے بچ سکے اور اس کی تازگی برقرار رہے۔
کھانے کو بار بار دوبارہ نہ گرم کریں۔
کھانے کو بار بار دوبارہ گرم کرنے سے نہ صرف اس کی غذائیت کم ہو جاتی ہے بلکہ اس کے خراب ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس سے بچنے کے لئے ایک ہی کھانے کو بار بار گرم نہ کریں
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






