کے الیکٹرک نے پروٹیکٹڈ صارفین سے متعلق وائرل نوٹس کو جعلی قرار دے دیا
کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے الیکٹرک نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک مبینہ نوٹس کی تردید کرتے ہوئے صارفین سے کہا ہے کہ وہ بجلی کے بلوں اور پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے متعلق صرف مستند اور سرکاری معلومات پر اعتماد کریں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے نوٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اگر کوئی پروٹیکٹڈ صارف کسی ایک ماہ میں 200 یونٹس سے زیادہ بجلی استعمال کر لے تو وہ مستقل طور پر اس رعایتی کیٹیگری سے خارج ہو جائے گا۔
کے الیکٹرک کے ترجمان نے اس دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ وفاقی حکومت کی پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے متعلق موجودہ شرائط و ضوابط میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
ترجمان کے مطابق اگر کوئی نان ٹائم آف یوز (Non-TOU) میٹر رکھنے والا صارف ایک ماہ میں 200 یونٹس سے زیادہ بجلی استعمال کر بھی لے تو اس کا پروٹیکٹڈ اسٹیٹس ہمیشہ کے لیے ختم نہیں ہوتا۔ اگر بعد میں وہ مسلسل چھ ماہ تک ماہانہ 200 یا اس سے کم یونٹس استعمال کرے تو سرکاری پالیسی کے تحت اس کا پروٹیکٹڈ اسٹیٹس اور رعایتی بجلی کی سہولت دوبارہ بحال ہو جاتی ہے۔
کے الیکٹرک نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ بجلی کے بل، ٹیرف یا پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے متعلق کسی بھی اطلاع پر یقین کرنے سے پہلے ادارے کے کسٹمر کیئر سینٹر، 118 ہیلپ لائن یا آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے تصدیق ضرور کریں۔
ادارے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غیر مصدقہ معلومات اور افواہوں سے گریز کریں تاکہ غلط فہمی اور غیر ضروری پریشانی سے بچا جا سکے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






