موبائل فونز پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی

اسلام آباد: چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو درآمدی موبائل فونز پر عائد 20 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کی یقین دہانی کرا دی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں درآمدی و مقامی موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں، آٹو پالیسی، الیکٹرک گاڑیوں اور درآمدی ڈیوٹیوں سے متعلق اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ درآمدی موبائل فونز پر عائد 20 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی پر غور کیا جا رہا ہے جبکہ 200 ڈالر تک مالیت کے موبائل فونز پر ٹیکس میں کمی کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

ایف بی آر حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 30 ڈالر تک مالیت کے موبائل فونز پر ٹیکس کی شرح 25 فیصد، 31 سے 100 ڈالر مالیت کے فونز پر 36 فیصد، 101 سے 200 ڈالر مالیت کے فونز پر 40 فیصد، 201 سے 350 ڈالر مالیت کے فونز پر 38 فیصد، 351 سے 500 ڈالر مالیت کے اسمارٹ فونز پر 40 فیصد جبکہ 500 ڈالر سے زائد مالیت کے فونز پر 41 فیصد مؤثر ٹیکس شرح عائد ہے۔

حکام کے مطابق موبائل فون کی قیمت بڑھنے کے ساتھ ٹیکس کی شرح بھی بڑھ جاتی ہے اور فی یونٹ ٹیکس 1500 روپے سے بڑھ کر 1 لاکھ 41 ہزار 500 روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ 44 فیصد درآمدی موبائل فون 31 سے 100 ڈالر والی کم ٹیکس کیٹیگری میں شامل ہیں جبکہ تمام کیٹیگریز میں اوسط مؤثر ٹیکس شرح 39.6 فیصد بنتی ہے۔

اجلاس کے دوران اراکین کمیٹی نے نشاندہی کی کہ مارکیٹ میں لاکھوں نان پی ٹی اے موبائل فون موجود ہیں اور موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں کی ادائیگی کے لیے اقساط کا نظام متعارف کرایا جانا چاہیے۔

چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے ایف بی آر اور پی ٹی اے کو ہدایت کی کہ وہ موبائل فون ٹیکس کی ادائیگی کے لیے اقساط کے نظام سے متعلق قابلِ عمل منصوبہ پیش کریں۔

رکن کمیٹی حنا ربانی کھر نے سوال اٹھایا کہ موبائل فونز پر بھاری ٹیکس محض ریونیو کے حصول کے لیے ہے یا کسی کمپنی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی موبائل فون کی خریداری پر اتنا بڑا مالی بوجھ نہیں ہونا چاہیے۔

اس پر چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ درآمدی موبائل فونز سے سالانہ 37 ارب روپے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جبکہ صرف ایپل فونز سے 21 ارب روپے ریونیو حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم قیمت فونز کی سلیب میں کمی سے تقریباً ایک ارب روپے کا مالی فرق پڑے گا جسے کسی اور ذریعے سے پورا کرنا ہوگا۔

سیکریٹری خزانہ نے بھی اس مؤقف کی تائید کی، جبکہ رکن کمیٹی جاوید حنیف خان نے کہا کہ پارلیمنٹ کسی معاملے میں اپنی آزاد رائے دینے کا مکمل اختیار رکھتی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close