ن لیگ کی سیاست صرف دعووں تک محدود، پیپلز پارٹی کام پر یقین رکھتی ہے، بلاول بھٹو زرداری

مظفر آباد آزاد جموں کشمیر،

30 جولائی، 2026

چییرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آج کشمیریوں کے سامنے کشمیر کے مستقبل سے متعلق اپنا خواب پیش کرنے آئے ہیں ۔

انکا عزم ہے کہ وادیِ کشمیر کو حقیقی معنوں میں ‘جنتِ بے نظیر’ بنائیں۔ ایک ایسا کشمیر جہاں امن و انصاف کی حکمرانی قائم ہو اور ہر شہری کو عزت، روزگار اور بنیادی سہولیات تک مساوی رسائی حاصل ہو۔ میرا بنیادی مقصد کشمیری عوام کو بااختیار بنانا ہے۔چاہتا ہوں کشمیر سے متعلق تمام فیصلے کشمیر کے عوام خود کریں۔

اس مقصد کے لیے پی پی پی کشمیریوں کو حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار فراہم کرے گی تاکہ وہ اپنے مستقبل کا تعین خود کر سکیں اور ایک باعزت و باوقار زندگی گزار سکیں۔میرا مقصد کشمیر کو حقیقی معنوں میں “آزاد کشمیر” بنانا ہے ،کشمیر میں امن و انصاف کے قیام کے ساتھ کشمیری عوام کو وہ بنیادی حقوق دلوانا چاہتا ہوں جو ہر پاکستانی شہری کو حاصل ہیں۔ کشمیری عوام نے ماضی میں جنگ، نقل مکانی اور قربانیوں کے مشکل ترین ادوار دیکھے ہیں جن کے باعث تعلیم، صحت اور روزگار شدید متاثر ہوئے اور ہزاروں گھروں میں ماتم ہوا۔ آج بھی کشمیری عوام بنیادی سہولیات کی کمی، وسائل پر اختیار نہ ہونے اور فیصلہ سازی میں نمائندگی نہ ملنے جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔چئیر مین پیپلز پارٹی نے ان خیالات کا اظہار مظفرآباد میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوے کیا ۔انہوں نے کہا کہ ان کا عزم ہے کہ کشمیر کے فیصلے اب کشمیر کے عوام خود کریں گے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک باعزت اور باوقار مستقبل میسر ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ “کشمیر کا فیصلہ کشمیر کرے گا” اور اس فیصلے کی بنیاد عوام کا حقِ رائے ہے۔ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ووٹ سے ہوگا کیونکہ ہر شہری کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ نوجوانوں کی نوکریوں سمیت تمام معاملات کا فیصلہ بھی کشمیر کے عوام خود کریں گے۔ انہوں نے عوام سے درخواست کی کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم وادیِ کشمیر کو “جنتِ بے نظیر” بنائیں تو 2 اگست کو تیر پر مہر لگائیں.

 

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حقِ حاکمیت کا مطلب یہ ہے کہ کشمیر کا ووٹ جس کا ہو، رزلٹ بھی اسی کا ہو۔ الیکشن کا فیصلہ بیلٹ سے ہو نہ کہ گولی سے، ووٹ کی چوری نہ ہو، پولنگ کا نتیجہ تبدیل نہ کیا جائے، پولنگ ایجنٹس کو باہر نہ نکالا جائے اور ووٹ کے استحصال کو کسی نوٹیفکیشن کی آڑ میں نہ چھپایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ شفاف انتخابات کے بغیر کسی بھی حکومت کو عوام کی نمائندہ حکومت نہیں کہا جا سکتا اور اسی لیے وہ آزادانہ انتخابی عمل کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب تک عوام کو یہ یقین نہیں ہوگا کہ ان کا ایک ایک ووٹ شمار ہوگا اور اس کا احترام ہوگا، تب تک جمہوریت صرف ایک نعرہ بن کر رہ جائے گی۔ حقِ حاکمیت کا تقاضا ہے کہ انتخابی عمل میں ریاستی ادارے غیر جانبدار رہیں، انتظامیہ کسی ایک جماعت کی سہولت کار نہ بنے اور میڈیا کو آزادانہ کوریج کی اجازت ہو۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کے عوام نے دہائیوں تک قربانیاں دی ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ انہیں فیصلہ سازی میں حقیقی شراکت دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شفاف انتخابات کے ساتھ مقامی حکومتوں کو اختیارات کی منتقلی بھی ضروری ہے تاکہ تعلیم، صحت، پانی اور روزگار جیسے بنیادی معاملات کے فیصلے کشمیر میں بیٹھ کر کشمیری خود کریں۔ جب عوام اپنی حکومت خود چنیں گے تو پالیسیاں بھی عوام کی ضرورت کے مطابق بنیں گی اور وسائل کا استحصال بند ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک صاف شفاف الیکشن نہ ہوئے، عوام کا ووٹ صحیح معنوں میں شمار نہ ہوگا اور عوام کے حق کا احترام نہ کیا جائے گا، تب تک جمہوریت صرف ایک نام کی رہ جائے گی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیر پر کشمیر کی منتخب اسمبلی اور کشمیر کی منتخب حکومت کرے۔ پاکستان کے جن اداروں میں کشمیر کے پانی، بجلی، روٹی اور مستقبل کے فیصلے ہوتے ہیں، ان اداروں میں کشمیر کی اپنی کرسی اور آواز ہونی چاہیے تاکہ کشمیریوں کے وسائل پر فیصلہ کشمیریوں کی مرضی سے ہو۔ انہوں نے یاد دلایا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے کشمیر کو او آئی سی میں آبزرور اسٹیٹس دلایا تھا۔ شہید محترمہ کا بیٹا اب کشمیر کو یہ حق دوبارہ دلوائے گا تاکہ بین الاقوامی فورمز پر بھی کشمیر کی نمائندگی ہو اور کشمیریوں کا مقدمہ دنیا کے سامنے مضبوطی سے پیش کیا جا سکے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ حقِ حاکمیت کا جوہر یہ ہے کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیر کے باسی کریں۔ انتخاب کا عمل شفاف ہو، بیلٹ کی عزت ہو اور کسی کے ووٹ پر ڈاکہ نہ پڑے۔ جب تک پولنگ ایجنٹ کو عزت نہ ملے اور نتیجہ راتوں رات تبدیل نہ ہو، تب تک کسی حکومت کو عوامی نمائندہ نہیں مانا جا سکتا۔ اسی لیے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو ہم اپنی سب سے بڑی ترجیح سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی خودمختاری کا تقاضا ہے کہ ریاستی مشینری غیر جانبدار رہے اور انتظامیہ کسی ایک سیاسی جماعت کا آلہ کار نہ بنے۔ کشمیری عوام نے طویل قربانیوں کے بعد یہ حق حاصل کیا ہے کہ وہ اپنی تقدیر کے مالک ہوں۔

اب وقت ہے کہ ووٹ کی طاقت کو تسلیم کیا جائے اور ہر شہری کو یہ بھروسہ دیا جائے کہ اس کی رائے فیصلہ کن ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ تعلیم، صحت، پانی اور روزگار جیسے معاملات کے فیصلے مظفرآباد میں ہونے چاہئیں، اسلام آباد میں نہیں۔ جب منتخب نمائندے عوام کو جوابدہ ہوں گے تو پالیسیاں عوامی ضرورت کے مطابق بنیں گی اور وسائل کی لوٹ مار کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیر کی حکمرانی کشمیر کی منتخب اسمبلی اور منتخب کابینہ کے ہاتھ میں ہو۔ وفاق کے ان فورمز میں جہاں کشمیر کے دریاؤں، بجلی کے منصوبوں اور معیشت پر فیصلے ہوتے ہیں، کشمیر کی مخصوص نشست اور مؤثر نمائندگی لازمی ہے تاکہ کشمیری اپنے وسائل پر خود اختیار رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا انتخابات کے فوراً بعد ایک آئینی کنونشن منعقد کیا جائے گا جس میں حکمران جماعت، اپوزیشن، قانونی ماہرین، نوجوان اور مہاجر برادری شریک ہوں گے۔ اس فورم کا مقصد ایک ایسا آئین تشکیل دینا ہے جو کشمیری عوام کی امنگوں، بدلتے ہوئے حالات اور آئندہ نسلوں کی ضروریات کا عکاس ہو۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرین اس تحریک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔

 

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں انہیں براہ راست نمائندگی دی جائے گی۔ اس کے ساتھ پاکستان کے چاروں صوبوں کی اسمبلیوں میں بھی کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص نشستیں مختص کی جائیں تاکہ وہ اپنے تعلیمی، روزگار اور شہری حقوق کے مسائل خود ایوان میں اٹھا سکیں اور حل کروا سکیں۔ چیئرمین نے کہا کہ مہاجرین صرف امداد کے مستحق نہیں، وہ اس تحریک کا سیاسی سرمایہ ہیں۔ اس لیے مقامی حکومتوں میں ان کی نمائندگی کو آئینی تحفظ دیا جائے گا اور قومی اسمبلی میں کشمیریوں کے لیے نشستیں مخصوص کی جائیں گی۔ پی پی پی کا موقف ہے کہ جب تب کشمیریوں اور مہاجرین جو سیاسی آواز، معاشی مواقع اور بنیادی حق فراہم نہیں ہوں گے حق حاکمیت کا نعرہ ادھورا ہے ۔ہم ان کو بوجھ نہیں قوت سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے پہاڑ، دریا، جنگلات اور قدرتی وسائل کے اصل مالک کشمیر کے عوام ہیں۔ دریائے نیلم سے پاکستان روشن ہوتا ہے تو مظفرآباد کا حق ہے کہ اسے صاف پانی ملے۔ کشمیر کا حق ہے کہ ہائیڈرو منصوبوں سے پیدا ہونے والا منصفانہ مالی حصہ اور روزگار کشمیر کے نوجوانوں کو ملے۔ صدیوں سے جس زمین سے بجلی اور پانی نکل رہا ہے، وہاں کے گھروں میں لوڈشیڈنگ اور مہنگے بل نہیں ہونے چاہئیں۔ وسائل پر پہلا حق مقامی آبادی کا ہے، اور اس حق کو تحری معاہدوں سے نہیں، آئینی سے یقینی بنایا جائے گا۔نیلم جہلم سمیت تمام منصوبوں کا مکمل حساب عوام کے سامنے رکھا جائے گا۔ آمدنی، رائلٹی، ماحولیاتی اثرات اور معاوضوں کی تفصیل ہر سال سفید کاغذ کی صورت میں شائع ہوگی تاکہ شفافیت رہے اور کسی کو شکایت کا موقع نہ ملے۔ ہر ہائیڈرو پراجیکٹ میں لوکل ایمپلائمنٹ لازمی ہوگی اور ٹھیکوں میں کشمیر کی مقامی کمپنیوں کو ترجیح دی جائے گی تاکہ پیسہ کشمیر کی معیشت میں ہی گردش کرے۔

 

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے آئی ٹی، فری لانسنگ، سیاحت اور کاروبار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ یونیورسٹیوں میں ٹیک انکیوبیشن سینٹرز، ہنر کے ادارے اور سیاحت کے لیے انفراسٹرکچر بنے گا تاکہ نوجوان ڈگری کے بعد نوکری کے لیے دوسرے صوبوں کا رخ نہ کریں۔ پونچھ میں بھی انٹرنیٹ بحال کیا جائے گا تاکہ نوجوان دنیا سے جڑ سکیں، آن لائن تعلیم حاصل کر سکیں اور ڈیجیٹل روزگار سے فائدہ اٹھا سکیں۔ جب وسائل، روزگار اور معلومات تینوں کشمیر میں ہوں گے تو حقیقی خودمختاری کا مطلب بھی پورا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ کشمیر کے نام پر صرف تقریروں اور تختیوں کی سیاست کرتی ہے۔ حقیقت میں کام صفر ہے۔سی ایم ایچ فلائی اوور ن لیگ کے دور میں شروع ہوا تھا، سال گزر گئے مگر آج تک مکمل نہیں ہوا۔ 2020 میں جس 200 فٹ کے پل کا ڈھنڈورا پیٹا گیا، وہ بھی ادھورا پڑا ہے۔ فنڈز آئے، وعدے ہوئے، کمیشن بنے، لیکن پل نہ بنا۔ یہ ہے ن لیگ کی “ترقی” کا ماڈل۔انہوں نے کہا 2014 میں شہید ذوالفقار علی بھٹو پل پاکستان پیپلز پارٹی نے ریکارڈ مدت میں مکمل کر کے عوام کے حوالے کیا۔ آج بھی وہ پل مظفرآباد کی پہچان ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ فرق صاف ہے پی پی پی کام کرتی ہے، ن لیگ کریڈٹ لیتی ہے۔ تعلیم اور صحت میں بھی ن لیگ کا ریکارڈ خالی ہے۔ کشمیر کے 3 میڈیکل کالجز میں سے مظفرآباد والا کالج بھی پی پی پی نے بنایا۔ ن لیگ کے 10 سالہ دور میں ایک نیا میڈیکل کالج نہیں بنا، ایک یونیورسٹی کا نیا کیمپس نہیں بنا، ایک بڑا ہسپتال مکمل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ نتیجہ یہ کہ ن لیگ نے کشمیر کو صرف ووٹ بینک سمجھا۔ الیکشن آتے ہی بسوں اور سڑکوں کے اعلانات، الیکشن جاتے ہی خاموشی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے نوجوان پوچھتے ہیں کہ ہمارے روزگار کا کیا؟ ہمارے ہسپتالوں کا کیا؟ ن لیگ کے پاس جواب نہیں، صرف بہانے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد کے مطابق سچ اور مفاہمت کمیشن قائم کیا جائے۔ احتجاج ختم ہونا چاہیے، کمیشن قبول کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا عام آدمی م صرف امن چاہتا ہے وہ نہ تو احتجاج میں ملوث ہے نہ کسی سیاست میں۔ چیئرمین نے کہا کہ گزشتہ سالوں میں کشمیر میں جو ظلم ہوا، جو مقدمے بنے، جو لوگ گرفتار ہوئے، ان سب کا حساب اب بند کمرے میں نہیں، عوام کے سامنے ہونا چاہیے۔

سچ اور مفاہمت کمیشن کا مقصد انتقام نہیں، انصاف ہے۔ جو غلطیاں ہوئیں انہیں تسلیم کیا جائے، اور آئندہ کے لیے ضمانت لی جائے کہ ریاست طاقت کے بجائے مکالمے سے چلے گی۔انہوں نے کہا کہ عام کشمیری تھک چکا ہے۔ اسے بندوق نہیں، روٹی چاہیے۔ اسے لاٹھی چارج نہیں، روزگار چاہیے۔ اسے مقدمے نہیں، عزت چاہیے۔ اس لیے ہم حکومت سے کہتے ہیں احتجاج کو گولی سے نہیں، کمیشن سے ختم کرو۔ اسمبلی پہلے ہی قرارداد منظور کر چکی ہے، اب عمل کا وقت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ سچ کے بغیر مفاہمت نہیں ہو سکتی، اور مفاہمت کے بغیر کشمیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ کمیشن بنے، مظلوموں کی سنی جائے، ذمہ داروں کا تعین ہو، اور پھر ایک نئے سماجی معاہدے کے ساتھ ہم کشمیر کو ترقی کی طرف لے جائیں۔انہوں نے الیکشن کمیشن سے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کی خدمت کرنے آئے ہیں یا ن لیگ کے رائے ونڈ کی نوکری کرنے؟ چیئرمین نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے ووٹ ڈال کر اپنا فیصلہ سنا دیا۔ اب رزلٹ چھپا کر، رات کے اندھیرے میں فارم تبدیل کر کے، مینڈیٹ پر ڈاکا نہیں ڈالا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تمام پولنگ اسٹیشنز کا رزلٹ فوری طور پر جاری کیا جائے۔ ہر اسٹیشن کا اصل رزلٹ پیش کیا جائے، اگر چوری نہیں ہوئی تو ڈر کس بات کا؟ اگر سب کچھ صاف ہے تو شفافیت عوام کے سامنے رکھنے میں کیا مسئلہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو آج فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ آئین اور قومی مفاد میں کھڑا ہے یا ن لیگ کے سیاسی مفاد میں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صاف و شفاف الیکشن ہوں تو پی پی پی سر جھکا کر نتیجہ تسلیم کرے گی۔ لیکن اگر مینڈیٹ چوری ہوا، اگر رات کو فارم بدلے گئے، تو یہ صرف آزاد کشمیر کی چوری نہیں ہوگی۔ یہ وفاق میں ان کی الٹی گنتی کا آغاز ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ عوام اب جاگ چکی ہے۔ کشمیر میں جو دھاندلی ہوگی اس کا حساب اسلام آباد میں بھی دینا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ تاریخ میں “غیر جانبدار” کے طور پر یاد رکھا جائے، نہ کہ “سہولت کار” کے طور پر۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو پیغام دیا کہ بائیکاٹ نہ کریں۔ الیکشن لڑیں۔ چیئرمین نے کہا کہ سڑکوں پر احتجاج اور پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرنے سے مینڈیٹ واپس نہیں آتا۔ مینڈیٹ عوام سے ملتا ہے، اور عوام تک جانے کا راستہ الیکشن ہے۔ اگر میدان خالی چھوڑ دو گے تو ن لیگ بغیر مقابلے کے جیت کا جشن منائے گی۔ اس لیے ہم کہتے ہیں مقابلہ کرو، ووٹ مانگو، اور عوام کو فیصلہ کرنے دو۔ انہوں نے کہا کہ ہر وہ سیاسی جماعت جو دھاندلی سے تنگ ہے، ہم اس کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھاندلی کے خلاف ہم سب ایک صفحے پر ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پی پی پی احتجاج کے ساتھ حل بھی دیتی ہے۔چیئرمین نے کہا کہ کشمیر کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں۔ یہاں کی سیاست کو ذاتی دشمنی نہیں، قومی مفاد چلائے گا۔ آئیں، بائیکاٹ کی سیاست دفن کریں اور ووٹ کی طاقت سے ن لیگ کی جعلی ترقی کا بیانیہ توڑیں۔انہوں نے کہا ن لیگ سمجھتی ہے کہ پاکستان میں مقیم مہاجرین کی سیٹ ان کی جیب میں ہے۔ 10

سال سے انہوں نے مہاجرین کو صرف ووٹ کے دن یاد کیا۔ باقی دن خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔ چیئرمین نے کہا کہ ن لیگ کا خیال ہے مہاجرین مجبور ہیں، ان کے پاس کوئی آپشن نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مہاجر کیمپوں کی بنیاد پر ان کی جاگیر ہے۔ لیکن وہ بھول گئے کہ مہاجر سب سے زیادہ باشعور ہے۔ اس نے قربانی دی ہے، اس لیے وہ سودا نہیں کرے گا۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ نے لیگ کی اس غلط فہمی کو 2 اگست کو دور کریں۔ ووٹ کے ذریعے بتائیں کہ مہاجرین کی وفاداری کسی جاگیردار کے ساتھ نہیں، اپنے حقوق کے ساتھ ہے انہوں نے کہا کہ کشمیر کی عوام نے اپنا فیصلہ کر دیا ہے کہ کشمیر کا فیصلہ تیر ہے۔ کشمیر کا فیصلہ بینظیر ہے۔

یہ فیصلہ صرف ایک نشان کا نہیں، یہ 3 حقوق کا اعلان ہے، حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار۔ آخر میں انہوں نے عوام سے کہا کہ 2 اگست کو اپنا ووٹ ضائع نہ کریں۔ یہ الیکشن صرف نشستوں کا نہیں، یہ کشمیر کے مستقبل کا ریفرنڈم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل اے 27 سے میاں عبدالوحید کو دونوں سیٹوں پر ووٹ دیں۔ وہ نوجوانوں کی آواز ہیں اور مہاجرین کے حقوق کے لیے اسمبلی میں بھرپور جنگ لڑیں گے۔ ایل اے 29 سے سردار مختیار عباسی کو کامیاب کریں جو عوام کی آواز بنیں گے۔ ایل اے 31 سے چوہدری لطیف اکبر کا تجربہ اور قیادت کشمیر کو ن لیگ کی جاگیردارانہ سیاست سے نجات دلائے گی۔ ایل اے 32 میں صاحبزادہ اشفاق اور ایل اے 33 میں دیوان علی چغتائی عوامی خدمت کا وہ ماڈل ہیں جو پی پی پی نے ہمیشہ دیا ہے۔ جبکہ ایل اے 30 سے مبشر اعوان نوجوان قیادت کی نمائندگی کرتے ہیں اور حقِ روزگار کے ایجنڈے کو آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سید بازل علی نقوی مظفرآباد کے نوجوانوں کی آواز ہیں انہیں ضرور کامیاب بنائیں ۔اسی طرح سردار جاوید ایوب کو کامیاب کریں ۔چیئرمین نے کہا کہ ان امیدواروں کو ووٹ دینا تیر کو ووٹ دینا ہے۔ تیر کو ووٹ دینا حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار کو ووٹ دینا ہے۔ 2 اگست کو فیصلہ کریں کہ کشمیر ن لیگ کی جیب میں نہیں رہے گا، کشمیر کا فیصلہ اب عوام کریں گے۔