ایرانی ہیکرز کا برطانوی پاور پلانٹ پر بڑا غیر معمولی سائبر حملہ

برطانوی میڈیا کے مطابق ایرانی ہیکرز نے گزشتہ ماہ ایک سائبر حملے کے ذریعے برطانیہ کے ایک پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں یہ تنصیب تقریباً چار دن تک بند رہی۔ اگر اس حملے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ اپنی نوعیت کا ایک اہم واقعہ ہوگا، کیونکہ اس سے پہلے ایرانی حکومت سے وابستہ ہیکرز کے برطانیہ میں کسی پاور پلانٹ کو مکمل طور پر بند کرنے کی اطلاع سامنے نہیں آئی تھی۔

 

رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے حکام نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر متاثرہ پاور پلانٹ کا نام ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے۔ تاہم حکام کے مطابق یہ امکان موجود ہے کہ پلانٹ نسبتاً چھوٹا تھا اور اس کی بندش سے ملک کے مجموعی بجلی کی پیداوار یا ترسیل کے نظام پر کوئی نمایاں اثر نہیں پڑا۔

 

اس سال کے آغاز میں برطانیہ کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر رچرڈ ہورن نے خبردار کیا تھا کہ برطانیہ کے لیے اہمیت رکھنے والے متعدد سائبر حملوں کے پیچھے چین، ایران اور روس سمیت دشمن ریاستوں سے وابستہ عناصر موجود ہوتے ہیں۔

 

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا میں پانی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے کو بھی سائبر حملوں کا سامنا تھا۔ ان حملوں سے امریکا کی متعدد ریاستیں متاثر ہوئیں اور معاملے نے امریکی حکام کی تشویش میں اضافہ کیا۔

 

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کا توانائی کا نظام مضبوط اور لچکدار ہے اور حکومت توانائی کے شعبے کے ساتھ مل کر اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ اور اعلیٰ سکیورٹی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

 

ماہرین کے مطابق اس حملے کا ممکنہ مقصد صرف بجلی کی فراہمی متاثر کرنا نہیں بلکہ یہ ظاہر کرنا بھی ہو سکتا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب سے منسلک ہیکرز برطانیہ کے حساس بنیادی ڈھانچے تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم حملے کے ذمہ داروں اور اس کے مکمل طریقہ کار کے بارے میں حتمی معلومات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔