اسلام آباد (آن لائن) امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے پاکستان کی عسکری مہارت، سعودی عرب کے مالی وسائل اور ترکی کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے امتزاج کو ایک مضبوط نئے دفاعی صنعتی مرکز کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تینوں ممالک کے درمیان حالیہ تعاون مستقبل میں ایک مربوط دفاعی صنعتی نظام کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
جریدے کے مطابق مکہ معاہدہ صرف گہرے سفارتی اور عسکری اثرات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے نتیجے میں دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی اور صنعتی تعاون کے نئے امکانات بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
دی نیشنل انٹرسٹ نے پاکستان کو عالمی دفاعی منڈی میں ابھرتی ہوئی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان زمینی، بحری اور فضائی دفاعی نظام کی وسیع رینج برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کی بکتر بند گاڑیوں، ہتھیاروں اور گولہ بارود کی بڑے پیمانے پر پیداوار کی صلاحیت کو سعودی مالی وسائل اور ترکی کی جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ اہم قرار دیا گیا ہے۔ جریدے کے مطابق ان تینوں عناصر کا امتزاج دفاعی صنعت میں بڑے پیمانے پر پیداوار اور جدید کاری کو فروغ دے سکتا ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کی ایک اہم صلاحیت مینٹیننس اور لاجسٹک سپورٹ کو قرار دیا گیا ہے، جو جدید دفاعی نظام کو طویل عرصے تک مؤثر اور فعال رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
جریدے کے مطابق پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران جنگی آلات کی اسمبلی، تیاری اور تعمیرِ نو کی صلاحیتوں میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے، جس کے نتیجے میں ملک کا دفاعی صنعتی ڈھانچہ مزید مضبوط ہوا۔
دی نیشنل انٹرسٹ نے مزید کہا کہ پاکستان کی دفاعی صنعت اعلیٰ معیار، بڑے پیمانے پر پیداوار اور نسبتاً کم لاگت کے امتزاج کے ذریعے زمینی، بحری اور فضائی دفاعی شعبوں میں اپنی موجودگی مزید مستحکم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سعودی سرمایہ اور ترکی کی جدید ٹیکنالوجی اس صلاحیت کو عالمی دفاعی منڈی میں مزید مؤثر بنا سکتی ہے۔






