غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں غزہ میں اسپتالوں، طبی مراکز اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی مذمت کی گئی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کی ہلاکتیں اور بنیادی تنصیبات پر حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی کارروائیاں امن عمل کے لیے خطرہ بن رہی ہیں اور غزہ میں انسانی بحران کو مزید سنگین کر رہی ہیں۔ اعلامیے میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ ٹرمپ کے روڈ میپ کی منظوری کے باوجود غزہ میں حملے جاری ہیں۔
وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ غزہ میں انسانی امداد، طبی سامان اور دیگر ضروری اشیا کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنائی جائے، جبکہ شہریوں، طبی مراکز اور امدادی کارکنوں کے تحفظ کو بین الاقوامی قانونی ذمہ داری قرار دیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ غزہ کی صورتحال کو مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملوں اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ یروشلم کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں اور فلسطینی علاقوں کے الحاق کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے اقدامات دو ریاستی حل کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے، اسرائیل کو بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کا پابند بنایا جائے اور سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنایا جائے۔
وزرائے خارجہ نے غزہ میں مستقل جنگ بندی اور معاہدوں پر مکمل عمل درآمد کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دیتے ہوئے فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی اور فلسطینی علاقوں کے الحاق کی ہر کوشش کو مسترد کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اعلامیے میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ 1967 کی سرحدوں پر مبنی آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، ہی مسئلہ فلسطین کا پائیدار حل ہے، جبکہ دو ریاستی حل کے لیے سنجیدہ سیاسی عمل خطے میں منصفانہ اور جامع امن کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔






