ایران عمان مذاکرات، آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق معاہدے کے مندرجات سامنے آگئے

تہران: ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکرز اور کمرشل بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے جاری مذاکرات تقریبا طے پاگئے ہیں۔

 

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز دونوں ممالک کے درمیان اس آبی گزرگاہ میں جہازوں کی محفوظ آمدو رفت کے لیے جغرافیائی حدود و قیود پر اتفاق ہوگیا تھا اور دیگر تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔ عمان نے اتفاق کیا ہے کہ اس مجوزہ معاہدے کے تحت خلیج فارس میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کی آمدورفت کے انتظام میں ایران کو نمایاں کردار حاصل ہوگا۔

 

ایک سینئر ایرانی ذریعے اور دو علاقائی حکام نے بتایا کہ اس انتظام کے تحت خلیج میں داخل ہونے والے جہازوں کے روٹ پر تہران کو عملی نگرانی حاصل ہو سکتی ہے جسے ایران کے لیے اب تک کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

 

البتہ بعض اہم معاملات جیسے جہازوں کی واپسی، ان کے معائنے اور ممکنہ ٹول فیس ابھی زیرِ بحث ہیں جس پر اتفاق کے بعد ہی مشترکپ اعلامیہ جاری ہوگا۔ خیال رہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق یہ پیش رفت اچانک نہیں ہوئی ہے بلکہ جون 2026 سے عمان ثالثی کے ذریعے ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا۔

 

دونوں ممالک نے اتفاق کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مستقبل، بحری خدمات اور انتظامی امور پر مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا جو دیگر خلیجی ساحلی ممالک سے بھی مشاورت کرے گا۔بعد ازاں جولائی کے آخر میں عمان نے ایران کے سامنے ایک علاقائی انتظامی نظام کی تجویز رکھی جس کی بنیاد آبنائے ملاکا کے ماڈل پر تھی۔

 

اس تجویز میں ایران کو مکمل کنٹرول دینے کے بجائے مشترکہ انتظام، رضاکارانہ فیس اور علاقائی تعاون کی بات کی گئی تھی۔ ایران اور عمان کے درمیان یہ مفاہمت وسیع تر امریکی ایرانی مذاکرات کا حصہ سمجھی جا رہی ہے جن کا مقصد جنگ بندی کو مضبوط بنانا، آبنائے ہرمز کو دوبارہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھولنا اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی ناکہ بندی ختم کرنا ہے۔

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں دعوی کیا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کا اعلان جلد ممکن ہے تاہم مذاکرات سے واقف ذرائع نے کہا ہے کہ ابھی کئی اہم نکات پر اتفاق ہونا باقی ہے اس لیے فوری حتمی معاہدے کی توقع قبل از وقت ہوگی۔

 

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے دنیا کو 20 فیصد تیل اور گیس کی مقدار گزرتی ہے۔ اگر ایران، عمان، امریکا اور دیگر متعلقہ فریق قابلِ قبول انتظام پر متفق ہو جاتے ہیں تو توانائی کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔