امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے نذیر احمد جنجوعہ کو جماعت اسلامی پاکستان کا قائم مقام سیکرٹری جنرل مقرر کر دیا۔
نذیر احمد جنجوعہ نے ایک مختصر تقریب میں قائم مقام سیکرٹری جنرل کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ ان کی تقرری جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم کے انتقال کے بعد عمل میں آئی، جو کینسر کے باعث گزشتہ روز انتقال کر گئے تھے۔
امیر العظیم 1958 میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اسلامیہ اسکول سنت نگر سے میٹرک، اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے ایف ایس سی، اسلامیہ کالج سول لائنز سے فزکس اور ڈبل میتھ کے ساتھ بی ایس سی، جبکہ پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔
وہ طالب علمی کے دور ہی سے اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے۔ پنجاب یونیورسٹی طلبہ یونین کے منتخب صدر بنے اور بعدازاں اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ کے فرائض انجام دیے۔ ضیاء الحق کے دور میں طلبہ یونین کی بحالی کی تحریک کے دوران لانگ مارچ میں حصہ لیا، جیل گئے، اور اسی دوران ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے۔
بعد میں وہ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات، جماعت اسلامی لاہور کے سیکرٹری جنرل اور امیر، اور پھر جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر رہے۔ 2019 میں انہیں جماعت اسلامی پاکستان کا مرکزی سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا۔
امیر العظیم نے وکلاء تحریک اور چیف جسٹس بحالی لانگ مارچ میں بھی فعال کردار ادا کیا، جہاں پولیس کی شیلنگ سے وہ شدید زخمی ہوئے تھے۔
2002 کے ضمنی انتخابات میں انہوں نے متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے لاہور کی صوبائی نشست پر انتخاب لڑا۔ انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ (ن) نے اپنا امیدوار ان کے حق میں دستبردار کر لیا، تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکے۔
امیر العظیم فیوچر ویژن کمیونیکیشن کے چیف ایگزیکٹو بھی تھے اور سیاسی، سماجی اور صحافتی حلقوں میں اپنی خوش اخلاقی، تنظیمی صلاحیتوں اور تربیتی خدمات کے باعث احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






