ایران نے امریکا کے ساتھ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد معطل کر دیا
ایران نے امریکا کے ساتھ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں اور معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کے بعد وہ اب اس معاہدے کی کسی شق کا پابند نہیں رہا۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ اور مذاکراتی ٹیم کے رکن کاظم غریب آبادی کے مطابق امریکا نے مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل روک دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی مسلسل فوجی کارروائیوں نے معاہدے کی روح کو متاثر کیا، جس کے بعد ایران نے بھی اپنی ذمہ داریاں معطل کر دی ہیں اور اس وقت ملک کا دفاع اس کی اولین ترجیح ہے۔
غریب آبادی نے کہا کہ ایران پہلے بھی امریکا پر معاہدے کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتا رہا ہے، تاہم یہ پہلی بار ہے کہ تہران نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی کسی شق پر مزید عمل نہیں کرے گا۔
پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ کئی ماہ کی پاکستانی ثالثی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، جس کے تحت چھ ماہ تک مذاکرات جاری رہنے تھے۔ ان کے مطابق امریکا نے معاہدے کی اپنی مرضی کے مطابق تشریح کی اور اس کے بعد ایسے اقدامات کیے جو مفاہمتی یادداشت کے خلاف تھے۔
ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ امریکا نے معاہدے اور بین الاقوامی اصولوں کے برخلاف فوجی کارروائیاں شروع کیں اور ایرانی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جس پر عالمی برادری کو ردِعمل دینا چاہیے۔
دوسری جانب امریکا نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق حالیہ حملوں میں ایران کے نگرانی مراکز، فوجی رسد کے نظام، زیرِ زمین اسلحہ ذخائر اور بحری عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ مقصد ایران کی فوجی طاقت کو محدود کرنا ہے۔
ایران نے بھی جوابی کارروائیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے اردن میں موجود ایک امریکی فضائی اڈے کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ ایرانی ذرائع کے مطابق حملے کے بعد علاقے میں دھواں اور آگ دیکھی گئی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکی حملوں کے نتیجے میں صوبہ ہرمزگان میں ٹیلی کمیونیکیشن تنصیبات کو نقصان پہنچا، جس سے بعض علاقوں میں موبائل، لینڈ لائن اور انٹرنیٹ سروسز متاثر ہوئیں۔ ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ جاسک کے علاقے میں پانی صاف کرنے والے ایک پلانٹ کو نقصان پہنچنے سے پینے کے پانی کی فراہمی متاثر ہوئی۔
ایرانی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں مختلف علاقوں میں امریکی حملوں کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا ہے، جبکہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






