امریکی فوج نے ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی جانب آنے اور جانے والے بحری جہازوں کی ناکہ بندی دوبارہ شروع کر دی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق یہ اقدام امریکی وقت کے مطابق شام 4 بجے سے نافذ کیا گیا، جس کے بعد ایران کے علاوہ دیگر ممالک کے جہازوں کو ہی اس راستے سے گزرنے کی اجازت ہوگی۔
سینٹ کام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف حملوں کا نیا مرحلہ شروع کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہونے والی ایرانی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔
امریکی کمانڈ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج کے درجنوں جنگی بحری جہاز اور سیکڑوں طیارے ان کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حملوں کے بعد ایران کے مختلف علاقوں، جن میں قشم، ہنگام، بمپور، بندرعباس، کیش، ہرمزگان اور سیرک شامل ہیں، دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق کیش جزیرے پر ہونے والی کارروائی میں ایران کی متعدد کشتیاں تباہ ہوئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے تہران کو مذاکرات پر آمادہ ہونے کا مشورہ دیا۔ فاکس نیوز کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران کے توانائی مراکز کو آخری مرحلے کے لیے رکھا گیا ہے، تاہم اگر ایرانی حکام مذاکرات کی میز پر واپس نہ آئے تو آئندہ ہفتے بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکی حکام نے ایرانی قیادت سے رابطہ کرکے واضح کیا ہے کہ معاہدہ کرنا ہی بہتر راستہ ہے۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکی اقدامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر واشنگٹن یہ سمجھتا ہے کہ فوجی دباؤ، سخت پابندیوں اور معاشی ناکہ بندی کے ذریعے ایران کو مذاکرات پر مجبور کیا جا سکتا ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی گئی ہے، جہاں جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی تھی۔ تہران کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے شروع ہونے والی لڑائی نے جون میں ہونے والے عارضی امن معاہدے کو ختم کر دیا، جس میں ہزاروں افراد کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
کشیدگی کا دائرہ خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیل گیا ہے۔ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا کہ بدھ کی صبح اردن میں موجود امریکی فوجی اڈے کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے بحرین اور کویت میں ہتھیاروں کے گوداموں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
کویت کی فوج نے تصدیق کی کہ اس کے دفاعی نظام نے ایرانی ڈرونز کو روکا اور حملے کے نتیجے میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا۔
امریکا کا الزام ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایران نے سات تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کئی ملاح ہلاک یا لاپتہ ہوئے۔ متحدہ عرب امارات کے مطابق اس کے دو تیل بردار جہازوں پر میزائل حملے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوئے۔
تازہ کشیدگی نے عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے میں خام تیل کی قیمت میں تقریباً 15 فیصد اضافہ ہوا ہے اور قیمت 85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






