//

امریکا ایران تصادم، ٹرمپ کی نئی دھمکی، خلیجی ممالک ہائی الرٹ

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خلیجی خطے کو ایک بار پھر سنگین بحران کی جانب دھکیل دیا ہے۔

ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے اور ایران کے خلاف مسلسل چوتھے روز فضائی حملوں کے بعد خطے میں فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن نے گزشتہ ماہ ہونے والی عارضی جنگ بندی اور مفاہمتی یادداشت کو مؤثر طور پر ختم قرار دیتے ہوئے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ امریکی فوج نے ایران کے مختلف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں میزائل نظام، ڈرون تنصیبات اور ساحلی دفاعی مراکز شامل ہیں۔

دوسری جانب ایران نے بھی میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے جوابی کارروائیاں کیں، جس کے بعد آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے میں بحری سلامتی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

کویت کی وزارتِ دفاع کے مطابق ملکی فضائی دفاعی نظام نے متعدد ایرانی ڈرونز اور دیگر فضائی اہداف کو کامیابی سے ناکام بنایا۔ حکام کے مطابق ایک کویتی بحری جہاز بھی حملے کی زد میں آیا، جس کے نتیجے میں چند اہلکار زخمی ہوئے، تاہم واقعے کی مزید تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔

بحرین میں بھی صورتحال کشیدہ رہی، جہاں ممکنہ فضائی خطرے کے پیش نظر ملک بھر میں ایئر ریڈ سائرن فعال کیے گئے۔ حکام نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران مذاکرات کی میز پر واپس نہ آیا تو آئندہ ہفتے فوجی کارروائیوں کا دائرہ مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ایران کے بجلی گھروں اور اہم پلوں کو بھی ممکنہ اہداف میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری تازہ کشیدگی نے آبنائے ہرمز میں عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور خطے کے امن و استحکام سے متعلق خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔ عالمی برادری صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ سفارتی ذرائع کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close