کھلاڑیوں کو انگلش کلاسز اور ذہنی مضبوطی کے لیکچرز بھی دیے گئے، سلمان علی آغا

لاہور: پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر سلمان علی آغا نے کہا ہے کہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) کا پری سیزن کیمپ صرف گراؤنڈ ٹریننگ تک محدود نہیں تھا بلکہ کھلاڑیوں کی ذہنی، جسمانی اور شخصی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔

ایک انٹرویو میں سلمان علی آغا نے بتایا کہ کیمپ کے دوران انگلش زبان کی کلاسز، ذہنی مضبوطی اور دباؤ کا سامنا کرنے سے متعلق خصوصی لیکچرز بھی کرائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماہرین نے کھلاڑیوں کو مختلف حالات میں ذہنی طور پر مضبوط رہنے کی تربیت دی، جبکہ کیمپ میں ہر اس پہلو پر کام کیا گیا جو ایک پروفیشنل کرکٹر کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

فٹنس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ تینوں فارمیٹس کھیلتے ہیں، تاہم اس وقت ان کی توجہ ریڈ بال کرکٹ پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ فٹنس ہر فارمیٹ کے لیے بنیادی ضرورت ہے، کیونکہ جسمانی طور پر فٹ نہ ہونے کی صورت میں انجری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ پروفیشنل کرکٹر ہونے کے ناطے کھلاڑیوں پر خود کو بہترین جسمانی حالت میں رکھنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی نے فٹنس کے معاملے پر زیرو ٹالرینس پالیسی اختیار کی ہے، جو قومی ٹیم کے معیار کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔

انہوں نے پری سیزن کیمپ کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ تینوں فارمیٹس کی مصروفیات کے باعث کھلاڑیوں کو اپنی خامیوں پر کام کرنے کا زیادہ وقت نہیں ملتا، تاہم آف سیزن کیمپ میں اس کمی کو پورا کرنے کا موقع ملا۔ ان کے مطابق آئندہ مسلسل پانچ ٹیسٹ میچز اور اس کے بعد دو ہوم ٹیسٹ میچز کو مدنظر رکھتے ہوئے ریڈ بال کرکٹ کی تیاری پر خصوصی توجہ دی گئی، جس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

سلمان علی آغا نے بتایا کہ اس مرتبہ کیمپ میں کئی نئے فٹنس ٹیسٹ بھی متعارف کرائے گئے، جبکہ روزانہ صبح 6 بجے سے شروع ہونے والی سخت ٹریننگ نے کھلاڑیوں کو طویل دورانیے کی جسمانی مشقت کا عادی بنایا، جو ٹیسٹ کرکٹ میں انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ لاہور کا موسم سخت تھا، لیکن ایسی ہی سخت ٹریننگ مستقبل میں فائدہ دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں ٹیم نے کھیلنا ہے وہاں موسم نسبتاً بہتر ہوگا، اس لیے مشکل حالات میں کی گئی تیاری میدان میں کارکردگی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

اپنی بیٹنگ کے حوالے سے سلمان علی آغا نے کہا کہ انہوں نے اس کیمپ میں اپنی خامیوں پر خصوصی توجہ دی، کیونکہ وہ اچھی شروعات کے باوجود بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب نہیں ہو رہے تھے۔ ان کے مطابق صرف ان ہی نہیں بلکہ دیگر بیٹرز نے بھی اس پہلو پر کام کیا کہ 60 یا 70 رنز کی اننگز کو سنچری اور پھر ڈیڑھ سو رنز تک کیسے پہنچایا جائے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close